یوں تو قرآن کریم کی تلاوت تمام ذکروتسبیحات سے اور وظیفوں وغیرہ سب سے افضل ہروقت ہے لیکن ایک خاص بات جو رمضان المبارک کیاندر جو کرنے میں ہے وہ یہ کہ یہ مہینہ بھوکوں کو کھانا کھلانے، اور پریشان حالوں کی پریشانیوں کو دورکرنے کا نیز اس مہینے میں لوگوں کے رزق کشادہ کردئے جاتے ہیں۔
اسی کی بنیاد پر بزرگان کرام کا ہمیشہ سے یہ طریقہ ووطیرہ رہاہے کہ اور آج بھی عالم اسلام کے مسلمان یہ سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں کہ رمضان شریف میں تلاوت قرآن اور دیگر اعمال حسنہ کرنے کے ساتھ ساتھ روزہ داروں کو افطاری کرانے کا بہت ذوق شوق سے اہتمام کرتے ہیں اور جو شخص اگر کسی روزیدارکو افطاری کراتاہے تو اس کے لئے بیشمارنعمتیں،رحمتیں،برکتیں خدائے تعالیٰ کی طرف ست نازل ہوتی رہتی ہیں۔
افطار کرانے کی فضیلت
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص روزہ دار کو افطار کراتا ہے یا کسی غازی کا سامان درست کرتا ہے تو اس کو اسی کے ثواب جیسا ثواب ملتا ہے (بیہقی فی شعب الایمان)
ایک اور روایت میں آیا ہے کہ جو شخص حلال کمائی سے رمضان میں روزہ افطار کرائے، اُس پر رمَضان کی راتوں میں فرشتے رحمت بھیجتے ہیں، اور شبِ قدر میں جِبرئیل علیہ السلام اس سے مُصافَحہ کرتے ہیں، اور جس سے حضرت جبرئیل علیہ السلام مصافحہ کرتے ہیں (اُس کی علامت یہ ہے کہ) اُس کے دِل میں رِقَّت پیدا ہوتی ہے، اور آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں۔(روح البیان)
فائدہ: ہمارے ہاں افطار کرانے کا بڑا ذوق شوق پایا جاتا ہے، اس کی جتنی حوصلہ افزائی کی جائے کم ہے تاہم یہ خیال بھی رکھا جائے کہ یہ سب کرنا صرف اللہ تعالی کی خوشنودی کے واسطے ہو، کوئی دکھلاوا مقصود نہ ہو، ورنہ نیکی برباد گناہ لازم کا مصداق ہوگا، اسی طرح افطاری اپنی حیثیت کے مطابق کرائے اور اسراف سے بھی بچے، بہت دفعہ دیکھا گیا ہے کہ سڑکوں کے اطراف پر افطاری کے دسترخوان لگے ہوتے ہیں اور بعد میں رزق کی ناشکری ہورہی ہوتی ہے، یہ اللہ تعالی کی ناراضگی کا سبب ہے۔
ہوائی جہاز میں روزہ دار کو جب آفتاب نظر آرہا ہے تو اِفطار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔طیارہ کا اعلان بھی مہمل اور غلط ہے۔روزہ دار جہاں موجود ہو وہاں کا غروب معتبر ہے، پس اگر وہ دس ہزار فٹ کی بلندی پر ہو اور اس بلندی سے غروبِ آفتاب دِکھائی دے تو روزہ اِفطار کرلینا چاہئے، جس جگہ کی بلندی پر جہاز پرواز کر رہا ہے وہاں کی زمین پر غروبِ آفتاب ہو رہا ہو تو جہاز کے مسافر روزہ اِفطار نہیں کریں گے۔ اگر کسی نے غلطی سے غروب سے پہلے روزہ کھول لیا جائے تو قضا واجب ہوتی ہے، کفارہ نہیں، اگر اس پر اس وقت روزہ فرض ہوچکا تھا تو وہ روزہ کی قضا کرلے اور اگر کسی نے اس طرح غلطی کی اور اب وہ فوت ہوچکا ہو تو اس کے اس روزے کا فدیہ ادا کردے، اور فدیہ یہ ہے کہ کسی محتاج کو دو وقت کھانا کھلانا، یا پونے دو کلو گندم کی قیمت نقد دے دینا۔
مسجد میں کوئی چیز تقسیم کردینا درست ہے بشرطیکہ مسجد کو آلودہ کرنے والی چیز نہ ہو، اسی طرح مسجد میں افطار کرنا جائز ہے مگر مسجد کو آلودہ ہونے سے محفوظ رکھا جائے۔
رابطہ:ریسرچ اسکالر سدھارتھ یونیورسٹی سدھارتھ نگریوپی