تبصرہ
محمد عرفات وانی
اردو ادب میں افسانہ محض ایک بیانیہ صنف نہیں بلکہ انسانی شعور، معاشرتی سچائیوں اور نفسیاتی پیچیدگیوں کا ایسا آئینہ ہے جس میں فرد اور سماج اپنی اصل صورت سے آشنا ہوتے ہیں۔ ایک سچا افسانہ نگار محض واقعات نہیں لکھتا بلکہ وہ زندگی کے ان گوشوں کو منور کرتا ہے جو عام نگاہوں سے اوجھل رہتے ہیں۔ اردو افسانہ نگاری کی تاریخ انہی تخلیق کاروں کے دم سے روشن رہی ہے جنہوں نے اپنے عہد کے دکھ، کرب، تضادات اور امیدوں کو لفظوں میں اس طرح ڈھالا کہ وہ ہر دور کے قاری کے دل تک رسائی حاصل کر سکیں۔ اسی روشن روایت میں سبزار احمد بٹ کا افسانوی مجموعہ گُھٹن ایک بامعنی اور قابل قدر اضافہ بن کر سامنے آتا ہے۔
’گُھٹن‘ محض افسانوں کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی باطن میں چھپی ہوئی بے چینی، سماجی جکڑن اور نفسیاتی کشمکش کی ایک بھرپور ترجمانی ہے۔ 2026 میں منظرِ عام پر آنے والا یہ مجموعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مصنف اپنے گرد و پیش کے حالات کو نہ صرف گہری نظر سے دیکھتا ہے بلکہ انہیں فکری اور ادبی سطح پر موثر انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اپنے بزرگوں کے نام اس کتاب کی نسبت محض ایک رسمی اظہار نہیں بلکہ اپنی تہذیبی جڑوں اور خاندانی اقدار سے وابستگی کا ایک زندہ استعارہ ہے، جو اس تخلیق کو مزید وقار بخشتا ہے۔اس مجموعے میں شامل 36 افسانے زندگی کے متنوع پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں دیہی اور شہری زندگی کے رنگ، انسانی رشتوں کی نزاکتیں اور سماجی تضادات ایک مربوط اور جاندار صورت میں اُبھرتے ہیں۔ گھٹن، پرانا گھر، کبوتر باز، گدھ، چسکا، انگارے، بازگشت، بہادر انکل، ضمیر، ڈرامہ باز، ماں ہوں نا، آنچ، کھڑکی، بددعا، پاگل عورت، صلہ، پرایا شہر، بہار، عروج، انوکھا تحفہ، اولاد ناخلف، نقشِ قدم، سپنے چاند کے، ثبوت، ناراض ماں، ایوارڈ، روشنی، من کا بوجھ، احساس، شارٹ کٹ، حتمی فیصلہ، پازیٹیو، میں سرما میں لیکچرار بنوں گا، آغوش، گھنٹی اور او ٹی پی جیسے افسانے قاری کو محض مطالعہ تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے اپنے باطن میں جھانکنے اور اپنے وجود سے سوال کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ سادہ مگر پراثر اسلوب، حقیقت سے قریب کردار اور موضوعات کی وسعت اس بات کی دلیل ہیں کہ سبزار احمد بٹ اپنے فن کو سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ برتنے کا ہنر جانتے ہیں۔
مجموعی طور پر گُھٹن ایک ایسا ادبی کارنامہ ہے جو نہ صرف کشمیری معاشرت کی ترجمانی کرتا ہے بلکہ آفاقی انسانی رویوں کو بھی اپنے دائرے میں سمیٹ لیتا ہے۔ محدود اشاعت کے باوجود اس مجموعے میں وہ فکری گہرائی اور معنوی وسعت موجود ہے جو اسے اردو افسانوی ادب میں ایک ممتاز مقام عطا کر سکتی ہے۔
نور شاہ صاحب کے مطابق سبزار احمد بٹ اردو افسانے کے مستقبل کے اُن نمایاں ناموں میں شامل ہیں جو نئی جہتوں کو جنم دے رہے ہیں۔ ان کے افسانوں میں انسانی جذبات، گہری نفسیات اور دیہی زندگی کے حقیقی مسائل نہایت مہارت سے پیش کیے گئے ہیں۔ ایک استاد ہونے کے ناطے ان کی تحریروں میں سماجی اور اخلاقی ذمہ داری کا احساس بھی واضح جھلکتا ہے جبکہ نور شاہ کے نزدیک وہ ایک وسیع النظر نوجوان ادیب ہیں جن کے فن میں وقت کے ساتھ مزید گہرائی اور معنویت پیدا ہونے کے روشن امکانات موجود ہیں۔ پرویز مانوس صاحب نے انہیں جدید دور کا ایک باصلاحیت افسانہ نگار قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے روایتی بیانیے سے ہٹ کر حقیقت پسندی اور معاشرتی مسائل کو اپنا موضوع بنایا ہے اور ان کے افسانوں میں دیہی و شہری زندگی، رشتوں کی نزاکت، طبقاتی فرق اور انسانی نفسیات کا خوبصورت امتزاج ملتا ہے۔ ان کے مطابق گُھٹَن نہ صرف دل کو چھوتی ہے بلکہ قاری کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے اردو ادب میں ایک قیمتی اضافہ ثابت ہوتی ہے۔
ڈاکٹر گلزار احمد وانی صاحب کے نزدیک سبزار احمد بٹ کے افسانے سماجی برائیوں کا ایک طرح سے ادبی آپریشن ہیں، جو نہ صرف مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ ان کے حل کی امید بھی پیدا کرتے ہیں۔ ان کا اسلوب سادہ مگر اثر انگیز ہے اور کردار عام انسانوں کی حقیقی عکاسی کرتے ہیں۔ ملک منظور صاحب نے ان کی تحریروں کی اصل قوت ان کی عاجزی اور ادب سے گہری وابستگی کو قرار دیاہے۔ خود سبزار احمد بٹ اپنی بات میں اس مجموعے کو اپنے داخلی کرب، مشاہدات اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف ایک خاموش احتجاج قرار دیتے ہیں، جس کا مقصد عام انسان کی زندگی میں موجود گھٹن کو بیان کرنا ہے اور آخر میں وہ اس امید کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کی یہ کاوش قارئین کے دلوں میں جگہ بنا سکے گی۔
بٹ صاحب کے پہلے افسانہ’ گھٹن ‘میں دیہاتی سادگی اور شہری زندگی کی بیگانگی کے تصادم کے ذریعے یہ حقیقت آشکار کی گئی ہے کہ ظاہری ترقی انسان کو اندرونی بے سکونی اور گھٹن کی طرف دھکیل رہی ہے جبکہ پرانا گھر مادی آسائشوں کے مقابل انسانی جذبات، یادوں اور وابستگی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے یہ پیغام دیتا ہے کہ اصل سکون خلوص اور ماضی کی جڑوں میں پوشیدہ ہوتا ہے۔’ کبوتر باز‘ ظلم کے خلاف جرأت، اتحاد اور اجتماعی مزاحمت کی قوت کو نمایاں کرتا ہے اور سکھاتا ہے کہ باہمی یکجہتی ہی استحصالی قوتوں کا مقابلہ کر سکتی ہے جبکہ’ گدھ‘ معاشرتی بے حسی، لالچ اور خونی رشتوں میں چھپی مفاد پرستی کو بے نقاب کر کے انسان کی اخلاقی زوال پذیری کی ایک بھیانک تصویر پیش کرتا ہے۔’ چسکا ‘جدید دور میں موبائل فون کی لت اور اس کے باعث انسانی رشتوں میں پیدا ہونے والی دوری کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کرتا ہے۔’انگارے‘ میں حق و صداقت کی راہ میں آنے والی آزمائشوں کو شجاع کی بے باک صحافت کے ذریعے نمایاں کیا گیا ہے جو یہ پیغام دیتا ہے کہ سچ کا ساتھ دینا قربانی اور ثابت قدمی کا متقاضی ہے۔’بازگشت‘ معاشرتی بے حسی اور اختیار کے ناجائز استعمال کو بے نقاب کرتا ہے جہاں ایک مجبور ماں اور اس کے خاندان کی تذلیل انسانی اقدار کے زوال کی عکاس بنتی ہے جبکہ بہادر انکل رشتوں میں دراڑ ڈالنے والے فتنہ پرور کرداروں سے خبردار کرتا ہے اور یہ سبق دیتا ہے کہ اپنوں کے بیچ بدگمانی تباہی کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔’ ضمیر‘ دولت کے غرور اور انسانی بے حسی کو ایک ایسے انجام سے جوڑتا ہے جہاں انسان اپنے ہی ضمیر کی عدالت میں مجرم ٹھہرتا ہے۔’ ڈرامہ باز‘ طنزیہ انداز میں گھریلو و سماجی مسائل کو پیش کر کے یہ دکھاتا ہے کہ بظاہر سنجیدہ معاملات بھی ایک تلخ مگر مزاحیہ حقیقت رکھتے ہے ۔’ ماں ہوں ناں‘ ماں کی بے لوث محبت اور اولاد کی بے حسی کو اس شدت سے بیان کرتا ہے کہ ممتا کی عظمت آشکار ہو جاتی ہے۔’ آنچ‘ حرام کمائی اور منشیات جیسے ناسور کے انجام کو واضح کرتے ہوئے یہ سبق دیتا ہے کہ برائی کا انجام ہمیشہ تباہی ہے۔ ’ کھڑکی‘ صبر، استقامت اور انصاف کی جدوجہد کی علامت ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ حق آخرکار غالب آتا ہے۔’ بددُعا‘ مکافات عمل کے اٹل اصول کو اجاگر کرتا ہے کہ انسان اپنے اعمال کا نتیجہ ضرور بھگتتا ہے ۔
’پاگل عورت‘ انسانی نفسیات اور معاشرتی بے حسی کا ایسا دردناک نوحہ ہے جو یہ باور کراتا ہے کہ ہر ٹوٹی ہوئی شخصیت کے پیچھے ایک گہرا دکھ اور بکھرے ہوئے خواب ہوتے ہیں۔’صلہ ‘میں ایثار کے بدلے احسان فراموشی کے المیے کو اجاگر کرتے ہوئے یہ بتایا گیا ہے کہ خود غرضی کس طرح خونی رشتوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے ۔ ’پرایا شہر‘ اپنائیت اور شہری بے حسی کے تضاد کو نمایاں کرتا ہے اور یہ پیغام دیتا ہے کہ انسان اصل سکون اپنے لوگوں میں ہی پاتا ہے۔’ بہار‘ معاشرتی بدگمانیوں کے برخلاف کردار کی سچائی اور نیکی کی بالآخر کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔’ عروج‘ مادیت کی اندھی دوڑ میں والدین کو فراموش کرنے کے اخلاقی زوال کو بے نقاب کرتا ہے۔’ انوکھا تحفہ‘ مکافات عمل کے تحت والدین کی ناقدری کے انجام کو عبرتناک انداز میں پیش کرتا ہے ۔’ اولادِ ناخلف‘ بے جا لاڈ پیار کے نتیجے میں بگڑتی نسلوں کا دردناک انجام دکھاتا ہے۔’ نقش قدم‘ محبت میں چھپے فریب اور سماجی بے وفائی کی تلخ حقیقت کو سامنے لاتا ہے۔’ سپنے‘ چاند کے خیالی خواہشات اور حقیقت کے درمیان فاصلے کو ایک المیہ طنز کے ساتھ بیان کرتا ہے اور’ ثبوت‘ گھریلو تشدد اور معاشرتی بے حسی کو ایک معصوم کی خاموش پکار کے ذریعے آشکار کرتا ہے۔’ ناراض ماں‘ والدین کی ناراضگی اور مکافات عمل کے ہولناک نتائج کو نمایاں کرتا ہے۔ ’ایوارڈ‘ نظام تعلیم میں اقربا پروری اور منافقت پر کاری ضرب لگاتا ہے ۔’ روشنی‘ ایک بکھرتے گھرانے اور مرد کی لاپرواہی کے تباہ کن اثرات کو آشکار کرتا ہے۔’ من کا بوجھ‘ اولاد کی بے حسی اور ماں کی قربانیوں کے المیے کو دلخراش انداز میں پیش کرتا ہے۔’ احساس‘ ضمیر کی بیداری اور بدعنوانی کے انجام کو واضح کرتا ہے۔ ’شارٹ کٹ‘ ناجائز ذرائع سے کامیابی کی خواہش کے نقصان دہ انجام کا سبق دیتا ہے۔’ حتمی فیصلہ‘ قدرتی انصاف اور انسانی غرور کے زوال کو نمایاں کرتا ہے۔’ پازیٹیو‘ معاشرتی رویّوں کی بے ثباتی اور ایک نیک انسان کی تنہائی کا نوحہ ہے ۔’ میں سرما میں لیکچرار بنوں گا‘ جدوجہد، خودداری اور تعلیمی نظام کی ناانصافیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ’آغوش ‘ماں کی ممتا اور ایک المناک حادثے کے کرب کو دل میں اتار دیتا ہے۔’ گھنٹی‘ مذہبی ظاہر داری اور دوہرے معیار پر طنز کرتا ہے اور آخری والا افسانہ’ او۔ٹی۔پی‘ جدید دور میں اعتماد کے ٹوٹنے اور رشتوں کی نازکی کو اجاگر کرتا ہے۔اس طرح سبزار احمد بٹ کے یہ تمام افسانے مل کر انسان کو اس کی کھوئی ہوئی انسانیت، ماند پڑتے احساسات اور فراموش ہوتی اخلاقی ذمہ داریوں کی طرف ایک خاموش مگر زلزلہ خیز صدا کے ساتھ پلٹنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ افسانے نہ صرف معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ اس کی اصلاح کا ایک سنجیدہ اور بامعنی پیغام بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ میںدل کی گہرائیوں سے سبزار احمد بٹ کو اُن کے شاندار افسانوی مجموعے گُھٹن پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ ان کا قلم اسی طرح سماج کی ترجمانی کرتا رہے اور ادب کے افق پر نئی روشنی بکھیرتا رہے۔
رابطہ۔ 9622881110