تبصرہ کتب
سہیل بشیر کار
اسلام کے جن پہلوؤں پر سب سے زیادہ اعتراضات کیے جاتے ہیں، ان میں اس کا نظامِ خاندان سرفہرست ہے۔ نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی اسے نشانہ بنایا جاتا ہے، حالانکہ مغرب کا خاندانی نظام خود سب سے زیادہ کمزور ہے۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اسلام کے عائلی نظام کی وجہ سے عورت بنیادی حقوق سے محروم رہتی ہے اور اس کی حیثیت ایک تمتہ کی ہے۔ جہاں مغرب اور دیگر اسلام مخالف قوتیں آئے روز پروپیگنڈا کر رہی ہیں، وہیں مسلمان بھی اپنے عائلی قوانین سے پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ آج بھی ایک بڑی تعداد ان احکامات سے ناواقف ہے، تو پھر ان پر عمل کیسے ہو سکتا ہے؟ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کے عائلی نظام کی معقولیت ثابت کی جائے۔ اسلام کے عائلی نظام کو واضح کرنے کے لیے سنجیدہ اور علمی انداز میں گفتگو کی جائے۔ اس سلسلے میں ادارۂ تحقیقاتِ اسلامی علی گڑھ قابلِ مبارکباد ہے کہ انہوں نے اس میدان میں اچھی پیش رفت کی ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’اسلام کے عائلی احکام‘‘ اسی سلسلے کی ایک نہایت اہم پیش کش ہے۔ کتاب کے مصنف علمی دنیا کے معروف عالمِ دین مولانا رضی السلام ندوی ہیں۔ مولانا کے اسلوب کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نہ صرف دل بلکہ عقل کو بھی اپیل کرتے ہیں۔ آپ کی تحریر میں جہاں تحقیقی رنگ نمایاں ہے وہیں اسلوب عام فہم بھی ہے، جس سے قاری کو مطالعہ میں آسانی ہوتی ہے۔ آپ کی تحریر میں کہیں بوجھل پن محسوس نہیں ہوتا۔۱۹۵ صفحات پر مشتمل زیرِ تبصرہ کتاب کو مصنف نے دس ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ مصنف لکھتے ہیں:’’سہ ماہی تحقیقاتِ اسلامی علی گڑھ کی روایت رہی ہے کہ اس کے ہر شمارے کی ابتدا میں مدیرِ مجلہ کے قلم سے ایک مضمون رہتا ہے۔ بانی مدیر مولانا سید جلال الدین عمری (م ۲۰۲۲ء) کی وفات کے بعد اس کی ادارت راقمِ سطور کے ذمے آئی تو اسے بھی ہر شمارے کے لیے مضمون لکھنا پڑا۔ میں نے سماجی اور عائلی موضوعات پر لکھنے کو ترجیح دی۔ چنانچہ گزشتہ دو برسوں میں لکھے گئے مضامین کا مجموعہ نذرِ قارئین ہے۔‘‘ (صفحہ 11)۔پہلے مضمون ’’نظامِ خاندان کو درپیش چیلنجز‘‘میں مصنف چار چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے نہ صرف قاری کو ان خطرات سے آگاہ کرتے ہیں بلکہ ان سے بچنے کی راہ بھی دکھاتے ہیں۔ مصنف کے نزدیک یہ چار خطرات یہ ہیں:
(۱) ہم جنس پرستی (Homosexuality)،(۲)بغیر نکاح کے جنسی تعلق (Live in Relationship)،(۳) بوڑھوں کے عافیت کدے (Old Age Homes)،(۴) رحمِ مادر کو اجرت پر دینا (Surrogacy)۔ان خطرات کی نشاندہی کے بعد مصنف اہلِ اسلام کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’جن ایشوز کا ذکر کیا گیا ہے وہ نظامِ خاندان کو چیلنج کرنے اور اس کی بنیاد کو ہلا دینے والے ہیں۔ اہلِ اسلام کی ذمہ داری ہے کہ ان کو ایڈریس کریں اور ان کے بارے میں اسلام کا صحیح نقطۂ نظر پیش کریں۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ان کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے، بلکہ نظامِ خاندان کے لیے ان کی ہلاکت خیزی اور تباہ کاری واضح کرنے کے لیے عقلی اور سماجی دلائل پیش کرنے ہوں گے۔‘‘(صفحہ 20)
دوسرے مضمون ’’اسلام کی عائلی ہدایات (قرآن مجید کی روشنی میں)‘‘ میں مصنف قرآنِ مجید کی روشنی میں اسلام کی عائلی ہدایات پیش کرتے ہیں۔ قرآنِ کریم کے احکامات سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح ضروری ہے۔ اسی طرح مصنف لکھتے ہیں کہ بعض دیگر مذاہب میں نکاح کو جائز نہیں سمجھا جاتا۔ نکاح کے ضمن میں مہر کی ادائیگی اور باہمی حقوق کی ادائیگی کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ اسلام کے نظامِ خاندان میں شوہر کو نگران کی حیثیت حاصل ہے۔ مصنف اس مضمون میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ یتیموں کی سرپرستی کی جائے۔ اگر نکاح میں خوش گواری باقی نہ رہے تو اس کے بعد کے لائحۂ عمل کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ مضمون کے آخر میں مصنف میراث کے احکام کی اہمیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’قرآنِ مجید میں تقسیمِ میراث پر بہت زور دیا گیا ہے اور اس کے احکام تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور دیگر عبادات و اعمال سے متعلق صرف اصولی باتیں قرآن میں بیان کی گئی ہیں، ان کی جزئیات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات یا معمولات کے ذریعے فراہم کی ہیں، لیکن وراثت کے تقریباً تمام احکام قرآنِ مجید ہی میں بیان کر دیے گئے ہیں۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ ان احکام کے بیان کے ساتھ ان پر عمل کی تاکید بھی کی گئی ہے اور عمل نہ کرنے کی صورت میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔‘‘ (صفحہ 28)
تیسرے مضمون ’’قرآن مجید کی عائلی تعلیمات‘‘ میں مصنف لکھتے ہیں کہ خاندان کی تشکیل مضبوط بنیادوں پر ہونی چاہیے۔ قرآنِ کریم کاموں کی تقسیم بھی واضح کرتا ہے۔ اسلام نے خاندان کے دائرے میں مردوں اور عورتوں کو مساوی حقوق عطا کیے ہیں اور ان کے لیے مساوی اجر کا وعدہ کیا ہے، البتہ مرد و عورت کے دائرۂ کار الگ الگ رکھے گئے ہیں، جو ان کی فطری صلاحیتوں کے عین مطابق ہیں۔ مصنف تحریکِ آزادیِ نسواں کی بعض فکری غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ قرآن مرد کو خاندان کا سربراہ قرار دیتا ہے۔ مصنف واضح کرتے ہیں کہ اسلام میں گھریلو تشدد کی کوئی اجازت نہیں۔ اسی باب میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ عائلی زندگی میں عورت پر کمانے کا بوجھ نہیں ڈالا گیا۔ اس کے علاوہ تعددِ ازواج، طلاق، قتلِ جنین کی ممانعت اور وراثت میں عورت کے حق پر مختصر مگر جامع روشنی ڈالی گئی ہے۔چوتھے مضمون ’’استحکامِ خاندان کی تدابیر‘‘ میں مصنف لکھتے ہیں کہ اسلام کی نظر میں صرف خاندان کا وجود میں آ جانا کافی نہیں، بلکہ وہ ایسی ہدایات دیتا ہے جن کے ذریعے خاندان کو استحکام حاصل ہو، افرادِ خاندان کے درمیان مضبوط تعلقات اور گرم جوشی پیدا ہو۔ اس ضمن میں مصنف سات امور کا ذکر کرتے ہیں: خاندان کی تنظیم، حقوق و فرائض کی پاسداری، محبت و رحمت، صلہ رحمی، زبان کی حفاظت، عفو و درگزر اور مصالحت۔ مصنف ان تمام نکات کی وضاحت قرآن و سنت کی روشنی میں کرتے ہیں۔پانچویں مضمون ’’کم سنی کی شادی‘‘ میں مصنف اس اعتراض کا جواب دیتے ہیں جو عام طور پر مسلمانوں پر کیا جاتا ہے کہ وہ کم عمری میں شادیاں کرتے ہیں، حالانکہ اعداد و شمار اس کی تائید نہیں کرتے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ شادی کی کم از کم عمر میں غیر ضروری اضافہ جنسی انارکی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کے بعد اسلام میں نکاح کے مقاصد بیان کیے گئے ہیں۔ اسلام کے نزدیک بلوغت کے بعد جلد نکاح پسندیدہ ہے۔ مصنف جلد نکاح کے فوائد بھی بیان کرتے ہیں اور یہ رائے دیتے ہیں کہ اگر اس سلسلے میں کوئی قانون سازی کی جائے تو مسلمانوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا جائے۔معاشرتی مسائل میں ایک اہم مسئلہ تاخیر سے شادی کا بھی ہے۔ کتاب کے چھٹے مضمون ’’نکاح میں تاخیر: اسباب اور حل‘‘ میں مولانا رضی السلام ندوی نے اس مسئلے کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا ہے۔ مصنف نے نکاح میں تاخیر کے اسباب میں جہیز کا لین دین، فضول رسوم، برادری واد، بلند معیار اور اعلیٰ تعلیم کو شامل کیا ہے۔ تاخیر کے منفی نتائج میں جنسی بے راہ روی، لیو اِن ریلیشن شپ، شرحِ پیدائش میں کمی اور بین المذاہب شادیاں شامل ہیں۔ آخر میں مصنف حل کے طور پر سادگی سے نکاح، برادری واد کے خاتمے، تعلیم کو رکاوٹ نہ بنانے اور غربت کی بنا پر تاخیر نہ کرنے کی تجاویز دیتے ہیں۔ساتویں مضمون ’’بیوی سے زبردستی مباشرت (Marital Rape)‘‘ میں مصنف ایک اہم مسئلے پر روشنی ڈالتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ کئی ممالک میں اس حوالے سے قوانین بن چکے ہیں اور ہندوستان میں بھی اس پر بحث جاری ہے۔ مصنف اسلام کا نقطۂ نظر پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’خلاصہ یہ کہ بیوی سے اس کی مرضی کے بغیر مباشرت اسلامی نظامِ معاشرت میں ابھرنے والا مسئلہ نہیں۔ اگر زوجین اسلام کی عائلی اور ازدواجی تعلیمات پر صدقِ دل سے عمل کریں تو یہ مسئلہ پیدا ہی نہیں ہوگا۔‘‘ (صفحہ 126)۔آٹھویں باب ’’خلع کی شرعی حیثیت‘‘ میں مصنف خلع کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی بحث کرتے ہیں۔ خلع کی لغوی و اصطلاحی وضاحت کے بعد عہدِ نبوی اور عہدِ خلافتِ راشدہ کے واقعات پیش کیے گئے ہیں۔ مصنف واضح کرتے ہیں کہ خلع عورت کا حق ہے اور خلع کے بعد عدت جیسے فقہی مسائل پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔نویں مضمون ’’وراثت میں عورت کا حصہ‘‘ میں عورت کی وراثت سے متعلق اعتراضات کا مدلل جواب دیا گیا ہے۔ مصنف تاریخی تناظر پیش کرتے ہوئے ثابت کرتے ہیں کہ اسلام نے سب سے پہلے عورت کو وراثت کا حق دیا۔ مضمون کے اختتام پر مصنف اعداد و شمار کے ساتھ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اکثر صورتوں میں عورت کو مرد کے برابر یا اس سے زیادہ حصہ ملتا ہے۔ (صفحہ 176)۔دسویں اور آخری مضمون ’’وراثت میں پوتے کا حصہ ‘‘میں پوتے اور پوتی کی وراثت سے متعلق اعتراضات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ مصنف مختلف صورتوں کی وضاحت کرتے ہوئے متبادل شرعی حل بھی پیش کرتے ہیں۔یہ کتاب مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نے عمدہ طباعت کے ساتھ شائع کی ہے۔ کتاب کی قیمت 150 روپے ہے۔
کتاب واٹس ایپ نمبر 7290092403سے حاصل کی جا سکتی ہے۔
(مبصر سے رابطہ۔ 9906653927)