جموں//شعبہ اُردوجموں یونیورسٹی میں ’ادیب سے ملاقات‘سلسلہ کے تحت پنجابی کے نامورافسانہ نگارخالدحسین اُردوطلباء واسکالرزکے روبروہوئے ۔دوران پروگرام طلباء نے مدعوکئے گئے ادیب سے ان کے ادبی کام سے متعلق مختلف سوالات کئے جن کے انہیں تسلی بخش جوابات دیئے گئے۔خالدحسین نے طلباء کے ساتھ اپنی زندگی اورادب کی طرف راغب ہونے سے متعلق تفصیلی خیالات کااظہارکیا۔انہوں نے کہاکہ میراجنم ضلع ادھم پورکے دوردرازعلاقہ میں ہوا۔پنجابی زبان میں لکھنے کاآغازکرنے کے تھوڑے ہی عرصہ بعدادبی حلقوں نے مجھے سراہا اورمیری پہچان ایک پنجابی ادیب کے طورپرقائم ہوئی۔خالدحسین نے بتایاکہ انہوں نے پنجابی کے علاوہ اُردوزبان میں بھی افسانے لکھے ہیں جنھیں اُروکے ادبی حلقوں میں کافی سراہاگیاہے ۔ایک سوال کے جواب میں خالدحسین نے بتایاکہ پنجابی اوراُردوکاآپس میں گہراتعلق ہے اوراس سلسلے میں اُردوکے محقق محمودشیرانی نے پنجابی کواُردوزبان کی ماں قراردیاہے۔انہوں نے اُردوکوریاست کے تینوں خطوں کی زبان قراردیا۔خالدحسین نے اُردوکے عظیم ادباء مثلاً عصمت چغتائی وغیرہ کے ساتھ قربت سے متعلق تجربات بھی مشترک کئے ۔انہوں نے کہاکہ ہندوستانی اورپاکستانی دونوں ممالک کے پنجابی افسانہ نگاروں کوہرکوئی پسندکرتاہے۔قبل ازیں خالدحسین کی حیات اورادبی خدما ت پرمبنی پرمغزمقالہ اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ ایم اے ایم کالج جموں ڈاکٹرشہنازقادری نے پیش کیا۔انہوں نے کہاکہ خالدحسین صرف تین سال کے تھے جب تقسیم ہندکاسانحہ پیش آیا۔انہوں نے اپنی تعلیم مختلف سکولوں سے مکمل کرنے کے بعداپنے کیرئیرکاآغاز بطورکلرک کیالیکن سخت محنت،دلجمعی اورمستقل مزاجی کے باعث ڈپٹی کمشنرکے عہدے سے سبکدوش ہوئے ۔ڈاکٹرشہنازقادری نے خالدحسین کے ادبی قدکے حوالے سے اُردوکے قدآورادباء مثلاً نورشاہ، پروفیسرقدوس جاوید،خوشبیرسنگھ شاداورپروفیسرشہاب عنایت ملک وغیرہ کے تاثرات کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں پنجابی اوراُردوکاقدآورافسانہ نگار قراردیا۔انہوں نے کہاکہ خالدحسین نے ملک کی تقسیم کے سانحہ پربھی لکھااوربطورادیب انہوں تقسیم ملک کے سانحے کادردمحسوس کرتے ہیںجوکہ ان کے افسانوں مین ملتی ہے۔انہوں نے کہاکہ اپنی محنت اورجدوجہدکے بل بوتے پر خالدحسین نے مختلف اعزازات حاصل کئے جن میں دوسال قبل حکومتِ پنجاب کی طرف سے دیاگیاایوارڈ وتوصیفی سند اورایک لاکھ روپے نقدی کاایوارڈبھی شامل ہے۔شہنازقادری نے کہاکہ خالدحسین پاکستابی پنجاب میں بھی کافی مقبول ہیں اورپے درپے ادبی دورے بھی کرتے رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ خالدحسین کے افسانوں کے دومجموعے ’ٹھنڈی کانگڑی کادھواں‘‘اور’’ستی سرکاسورج‘‘ شائع ہوچکے ہیں۔’ستی سرکاسورج‘ میں پروفیسرقدوس جاویدنے خالدحسین کی افسانہ نگاری کابڑی خوبصورتی سے تنقیدی جائزہ لیاہے ۔قبل ازیں پروفیسرشہاب عنایت ملک صدرشعبہ اُردوجموں یونیورسٹی نے ’ادیب سے ملاقات‘سلسلہ کے مقاصدکوبیان کیا۔انہوں نے کہاکہ اس پروگرام کامقصد اُردوطلباء کوادباء سے روبروکرواکران کے اذہان کووسعت دینااورفکشن وشاعری کے میدان میں آگے بڑھنے کیلئے مفیدافزامعلومات کاخزانہ حاصل کرناہے۔پروفیسرشہاب عنایت ملک نے بتایاکہ میں نے برصغیرکے ناموراُردوشاعر خوشبیرسنگھ شادؔکوبھی شعبہ اُردوکے طلباء سے روبروہونے کی دعوت دی ہے اورانہوں نے میری گذارش کوقبول کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جنوری 2018 میں شعبہ اُردومیں تشریف لائیں گے۔انہوں نے کہاکہ ادبی تقریبات کامقصد طلباء واسکالروں کومستفیدکرناہے تاکہ طلباء صرف کتابوں اورنصاف تک ہی محدودنہ رہیںبلکہ موجودہ دورکی ادبی صورتحال سے بھی مکمل طورپرباخبررہ سکیں۔اس دوران پروگرام کی نظامت کے فرائض ڈاکٹرعبدالرشیدمنہاس نے انجام دیئے جبکہ شکریہ کی تحریک ڈاکٹرفرحت شمیم نے پیش کی۔ اس دوران پروگرام میں متعددادباء ،طلباء ،اسکالرس ،فیکلٹی اورسول سوسائٹی ممبران بھی موجودتھے۔