جموں // کثیر اللسانی ادبی تنظیم ادبی کنج جے اینڈ کے جموں کے زیراہتمام ایک خصُوصی سُر مئی نِشست اِنعقاد ہوا۔ جِس کی صدارت کے فرائض جموّں کے جانے مانے ریڈیو ٹی وی گلوکار و شاعرچمن سگوچ نے سر انجام دِئے۔ جبکہ گوجری واُردوکے جانے مانے شاعرسروَر چوہان حبیبؔ اور پنجابی کے نامور شاعر ہرجیت سنگھ اُپلؔ آج کے مہمانِ خصوُصی تھے۔ اِس بار نظامت کے فرائض ادبی کُنج کے ادبی سیکرٹری بِشن داس خاکؔ نے انجام دِئے۔ نِشست کے آغاز میں اپنے سواگتی خطاب کے دوران تنظیم کے صدر شام طالبؔ نے بتایا کہ آئیندہ دِ نوں میں ادبی کُنج خواتین کیلئے خصوُصی طور ایک نثری و شاعرانہ نِشست کا سِلسِلہ پھِر سے شُروع کرنے جا رہا ہے۔ آج کے نثری دوَر میں ’بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤکے موضوع پر اُردوُ و ڈوگری کے معروُف شاعر گردھاری لعل راہیؔ نے پیش کی ۔کہانی کو پسند کرتے ہوئے اِس پر سیر حاصل تبصرہ بھی ہوُا۔ شاعرانہ دوَر میں جانے مانے نوخیز غزل گو شاعر بشن داس خاکؔ کی اُردوُ غزل ’ مُفلسوں کا کہیں اب گُذارہ نہیں، ایک چُپ کے سِوا کوئی چارہ نہیں۔‘ پر د ِل کھول کرتعریف و تنقید کی گئی۔آج کی سُر مئی نِشست میں چمن سگوچ نے نامور شاعر ساحر لُدھیانویؔ کی لِکھی اور محمّد رفیع کی گائی گئی غزل ’ یہ زُلف اگر کھُل کے بِکھر جائے تو اچھا‘ گا کر ایک سماں باندھ دِیا۔ اِس نِشست کے شعری دوّر میں اپنا کلام پیش کرنے والے کُچھ شعراء کے اِسمائے گرامی اِس طرح ہیں۔ آرشؔ دلموترہ ، مالک سنگھ وفاؔ،ہرجیت سنگھ اُپلؔ، سرور چوہان حبیٖبؔ، معصومؔ کشتواڑی، گردھاری لعل راہی ، ایم ایس کامراؔ، شمسؔ راجن ، بِشن داس خاکؔ، رازؔ ریاض سوہل، وید اُپّل ۔راج کمل، ایس کے گُپتا، محمّد باقر صباؔ،، سنجیو کُمار ،خورشید کِشتواڑی، راجیو کُمار اور شام طالبؔ۔ نِشست میںاُردوُ، ہِندی و کشمیری کی جانی مانی شاعرہ اور ادبی کُنج کی نائب صدر سنتوش شاہ نادانؔکی کشمیری کِتاب ’عِلمدارِ کشمیر‘ کے اجراء بتاریخ 3اپریل کئے جانے کا ذِکر کرتے ہوئے ادبی کُنج کی طرف سے اِظہارِ مسرّت کِیا گیا۔ نِشست کا اِختتام حسبِ معمول آرشؔ دلموترہ چیئرمین کی طرف سے پیش کردہ شُکریہ کی تحریک سے ہُوا۔