ابو زاویان
”راحت القلوب“ نامی کتاب وادی میں تصوف کی کتابیات میں ایک نیا اضافہ ہے۔ تصوف کا مضمون تاریخی اعتبار سے جتنا جاذب نظر آتا ہے، اتنا ہی پیچدہ بھی ہے۔ یہ وادی جہاں سحر انگیز ہے وہیں اہلِ علم کے یہاں متنازعہ بھی رہی ہے۔ اس کے بنیادی تصورات زیادہ تر استعاراتی پیرائے میں بیان کیے جاتے ہیں جو عامتہ الناس کی دسترس سے عموماً باہر ہوتے ہیں۔ روحانیت کے تئیں گرانقدر خدمات کےدعوؤں کے باوجود اہلِ علم و دانش ابھی تک تصوف کے حوالے سے کسی واحد اور مسلمہ توجیہہ پر متفق نہیں ہو سکے ہیں۔ یہ حقیقت اس امر کے باوصف ہے کہ علمائے مستشرقین نے تصوف کو روح دین کی اساس کے طور پر پیش کرنے کی بھر پور کاوشیں کی ہیں ۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ مستشرقین کی بیشتر توضیحات فی زمانہ تصوف کے مقاصد کو سمجھنے کے لیے رو بہ عمل لائی جاتی ہیں ۔ نتیجے کے طور پر قدیم یونانی فلسفے ، کلیسائی رجحانات اور ویدانت کے اصول و مبادی بڑی حد تک تصوف کے ہیولیٰ اور بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرتے نظر آتے ہیں اور خالص اسلامی نقطۂ نظر سے تصوف کو متعارف کرنے کی سعی کا تصور ابھی تک متضاد توضیحات کے بادلوں میں گرا ہوا نظر آتا ہے۔
اکا بر صوفیا کا یہ دعویٰ کہ تصوف دراصل ”احسان“ سے مشتق ہے اور یہ لفظ حدیث ِ جبریلؑ میں وارد ہوا ہے، اربابِ علم کی مکمل تشفی کرنے سے قاصر رہا ہے۔ وہ عنوان جو قانون اسلام کی آخری کتاب میں مذکور ہی نہیں ، اُسے روحِ اسلام اور اساسِ دین قرار دنیا ایک ایسا دعویٰ ہے جس کی تائید کیلئے واضع اور بین دلائل موجود نہیں ۔ بعد کے زمانے میں تصوف کے بیشتر سلاسل، تاریخ تصوف کی عظیم شخصیات کے ذاتی اور روحانی تجربات کی زد میں پروان چڑھتے رہے ہیں۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ تزکیہ نفس اور مادہ پرستی سے بیزاری وہ تصورات ہیں جن سے تصوف کی باریک طنابیں جڑی ہوئی ہیں ۔
زیر نظر کتاب کے مصنف ماسٹر محمد سلیم بیگ کا تعلق بارہمولہ کے ایک پہاڑی گاؤں، لطیف آباد سے ہے اور انہیں دینی علوم کی دولت ورثے میں ملی ہے۔ نوے کی خونچکاں دہائی کے اوآخر میں ان پہ جان لیوا حملہ ہوا اور ان کا دایاں باز و تقریباً ناکارہ ہو گیا تھا۔ ایک پیچیدہ پلاسٹک سرجری کے نتیجے میں وہ بڑی حد تک صحت یاب تو ہو گئے لیکن باز و مکمل طور پر فعال نہ ہو سکا۔ اس کے باوجود ان کی علمی کاوشیں اور تحقیقی جسارتیں مسلسل جاری رہیں اور ۸۰سال کی عمر میں 350 صفحات پر مشتمل ” راحت القلوب “ لکھ ڈالی جو کہ واقعی ایک قابل تحسین سعی ہے۔ اگر چہ کتاب کے بیشتر مضامین تالیفات، استعارات ، دیرینہ تصورات اور واقعات گوئی کا نمونہ ہیں لیکن اس انتہائی سنجیدہ مضمون پر قلم کشائی کرنا بذات خود کارے دارد والا معاملہ ہے۔ تاہم بعض روحانی دعوؤں کے نتائج اخذ کرنے میں کبھی کبھی احتیاط کا دامن ہاتھ سے سرکتا نظر آتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مصنّف کے یہاں خیالات کا ایک ہجوم اُمڈ آیا ہے اور وہ اس بحر عمیق کی لہروں میں خود غواصی کے بجائے ان معلومات کوامانتاً آئندہ نسل کے حوالے کرنا چاہتےہیں۔ یوں بھی تصوف کے حوالے سے لکھی جانے والی ہر نئی کتاب گذشتہ کتابیات و ادبیات کا چربہ ہو اکرتی ہے جس سے معلومات میں اضافہ تو ہو سکتا ہے لیکن اخذ و قبول کا معاملہ تاریخ اور تحقیق کی صوابدیدپر منحصر ہوتا ہے۔
تصوف جب تک اپنے بنیادی دائرے میں رہ کر زُہد و تقویٰ اور تزکیہ نفس کی بات کرتا ہے تو وہ ایک ذاتی روحانی تجربے کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور اس سے اصلاحِ احوال و کسر نفسی کے متعد دروازے کھلتے ہیں ۔ لیکن تصوف کا شُترِبے مہار کبھی رُکنے کا نام نہیں لیتا۔ وہ ایک قیا سیاتی ما بعد الطبیعات کو تسخیر کرنے کی لا حاصل سعی کرتا ہے اور اس سے مضر اثرات اور منفی رجحانات کی راہیں کھل جاتی ہیں۔ کائنات کے خالق کی کچھ تو مصلحت رہی ہوگی کہ اس نے بعض معلومات کو یا تو اپنی ذات تک محدود رکھا یا اُنہیں اپنے بعض منتخب نمائندوں کو عطا کیا اور نوع انسانی کو عمومی طور پر ان کے حصول کے لیےلازمی قرار نہیں دیا۔
غائر درجے کا استغراق ہو یا کسرِنفسی کی سخت ترین مشقیں، عملی دنیا سے کنارہ کشی ہو یا کشف و کرامات کا متضاد اور نا قابلِ فہم استعارہ، یہ سب انفرادی تجربات تو ہو سکتے ہیں لیکن انہیں الہامی اصولوں کے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم علمائے تصوّف اس بیانیے کے پیرائے کے لیے امام جعفر صادق کے ایک قول کا سہارہ لیتے ہیں جس کے مطابق قرآن کی آیات کے بعض حصے صرف چند مخصوص اربابِ فہم و فراست ہی سمجھ سکتے ہیں۔ اس قول کو اگر صحیح بھی مان لیا جائے پھر بھی یہ قرآن کے اُس عمومی اصول سےمتصادم نظر آتا ہے جو کلام الٰہی میں بدرجہ اُتم موجود ہے۔ اس اصول کے تحت ایک معمولی مگر سنجیدہ کاوش بھی فہم ِ قرآن کے دروازے کھول سکتی ہے۔ عام پڑھا لکھا انسان رمزِ قرآنی کے دقیق مسائل کو نہ بھی سمجھ سکے لیکن ان اغراض و مقاصد کو آسانی سے سمجھ لیتا ہے جو نوع انسانی کے لیے عمومی بہتری اور دنیا و آخرت میں اُس کی فلاح و بہبود سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن اہلِ تصوف کو آیاتِ متشابہات سے غیر معروضی تنائج اخذ کرنے میں جو شغف رہا ہے اُس سے ذاتی معاملات تو شاید درست ہو سکیں لیکن خلق خدا کے لیے اُسے لازمی قرار دینا ایسا موضوع ہے جو ہمیشہ محلِ نظر رہا ہے۔ کلام ِربّانی میں سورہ آل عمران میں آیاتِ محکمات ومتشابہات کی حقیقت مختصر مگر جامع انداز میں یوں واضح کی گئی ہے۔
”وہی تو ہے جس نے آپؐ پر کتاب نازل کی۔ جس کی کچھ آیات تو محکم ہیں اور یہی(محکمات) کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات ہیں۔ اب جن لوگوں کے دل میں کجی ہے وہ فتنہ انگیزی کی خاطر متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور انہیں اپنے حسب ِ منشا معنی پہنانا چاہتے ہیں حالانکہ اُن کا صحیح مفہوم اللہ کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا۔“ (سورہ ۳ ، آیت ۷)
اگر چہ مصنّف نے ایک دقیق مضمون کے لیے آسان زبان استعمال کرنے کی کوشش کی ہے اور تصوف کی بیشتر جہتوں پر عمومی گفتگو کی ہے لیکن اس خاردار وادی میں دامن کو مکمل طور پر بچانا ہر ایک کی بس کی بات نہیں۔ لہٰذا وہ وحدت الوجود اور ابن عربی کی دیگر تصریحات سے متاثر نظر آتے ہیںجن سے تخریجی تحقیق کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔ ابن عربی کے تجربات وتوضیحات نے عالم ِ تصوف کو ایک طویل عرصے تک نہ صرف متاثر کیا بلکہ اپنا گرو یدہ ہی بنالیا ۔ ویسے بھی تصوف کا دھارا کرشمائی شخصیات کے انفراتی تجربات سے ہر دور میں تخفیف و اضافے کے عمل سے گُزر کر اپنی پینگوں کے رُخ کو بدلتا رہا ہے۔ اور اسے علمی تجربات اور روحانی تصرفات کا نام دیا جاتا رہاہے۔
حضرت مجدّد الف ثانی بھی ابتدائی دور میں ابن عربی کے وحدت الوجود سے متاثر تھے لیکن خواجہ باقی باللہ کی صحبت کا اثر مؤثر ثابت ہوا اور انہوں نے وحدت الشہود کا نیا تصور پیش کیا۔ اگر چہ بعد کے دور کے چند محققین نے دونوں دھاروں کو ایک ہی ماخذ کی دو شکلیں قرار دیاہے لیکن دونوں تصورات میں بُنیادی فرق نمایاں ہے۔ اگر یہ دونوں تصورات ہم آہنگ بھی ثابت ہو جائیں تو بھی ان کی حیثیت ذاتی تجربات و مشاہدات کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے۔ اُمت کی عمومی ہدایت اور فوز و فلاح کے لیے قرآن اور سنت کی تعلیمات ہی کافی ہیں ۔ تصوف در اصل فلسفے کا دوسرا نام ہے جس کی تعلیم نہ تو ناگزیر ہےاور نہ ہی اساسِ دین کا کوئی لازمی حصہ۔ یہ ایک اضافی عمل ہے جو شغف ِ انسانی اور پروازِ تخیل کی مثال تو ہو سکتا ہے، لیکن اُس سے نوع انسانی اور معاشرے کی عمومی تعمیر وترقی اور اصلاح و فلاح کی راہیں کھل جائیں، ایسا ضروری نہیں ۔
تصوف کے تما م تر سلاسل میں نقشبندی سلسلہ حضر ت مجدّ دالف ِ ثانی کی تعلیمات سےمتاثر ہے اور شریعت کی پابندی کو ضروری سمجھتا ہے ۔ باقی ماندہ سلاسل میں طریقت کا شریعت پر غالب آجانا کوئی نئی بات نہیں اور کبھی کبھی اسے ناگزیر بھی تصور کیا جاتا ہے۔ جنوبی اور وسطی ایشیا کے بیشتر سلاسل مجدّدی نقشبندی سلسلے سے رسمی طور پر منسلک ہیں لیکن تعلیمات پر علاقائی و مقامی رنگوں کی آمیزش بھی واضح طور پر نظر آتی ہے۔
زیر ِتذکرہ کتاب کے اوآخر میں مصنّف نے مولانا رومی کی مثنوی پر بعض ابواب باندھے ہیں جو مولانا رومی کی مابعد الطبیعات اور دقیق مسائلِ معرفت کے متعلق ہیں ۔ انہوں نے روایتی بیانیے کے انداز کو اپنا کر آگے بڑھنے کی کوشش کی ہے جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں ۔ مثنوئ روم کا خاصہ یہ ہے کہ وہ مختلف اور غیر متعلق مضامین کو وحدت کی ایک لڑی میں پرونے کے لیے جو بیانیہ تیار کرتے ہیں وہ طویل تدریسی نظم کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور قاری تجرباتی مطالعے سے زیادہ تاثراتی اثر پذیری کا شکار ہوا جاتا ہے۔ لہٰذا مثنوی کے بالاستیعاب مطالعے کے لیے ضروری ہے کہ رزمیائی آہنگ سے زیادہ مسائل و معارف کی اصل لا اصول کی طرف توجہ رہے۔ معروف مستشرقی عالم خلیفہ عبدالحکیم کے مطابق مثنوی روم تو نہ خالصتاً فلسفہ ہے اور نہ ہی محض الہایات۔ وہ نہ تو نرا تصوف ہے اور نہ اصطفایت ( انتخابی طریقہ ) کی ایک واضح شکل ۔ رومی کی عبقری صلاحیتوں کا کمال یہ ہے کہ وہ آسان ترین بیانیے کو استعاراتی اور داستان گوئی کا نظام عطا کر تخریجی نتائج حاصل کرتے ہیں ۔ تصوف کی تاریخ میں اگر چہ امام ِغزالیؒ کو فلسفے اور تصوف کو ہم آہنگ کرنے میں سبقت حاصل ہے لیکن حسیاتی شدت، خیالات کی اصلیت اور بیانیے میں آزادئ رائے سے جس طرح مولانا رومی ؒنے کام لیا ہے وہ اُن ہی کے شہابِ قلم کا خاصہ ہے۔
یہ ایک ضخیم کتاب ہے جو مفید معلومات کا مجموعہ ہے۔ کتابت عمدہ اور سرورق دیدہ زیب ہے۔ کتابت کی غلطیاں موجود ہیں لیکن زبان سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ الگ بات ہے کا تصوف کا مضمون ہی ایسا ہے جسے عام فہم زبان میں سمجھانے سے اکابر صوفیا بھی گریز کرتے رہے ہیں۔ مجموعی اعتبار سے یہ کتاب وادی میں تصوف کے روایتی تحریری مواد میں ایک اچھا اضافہ ہے۔
٭ مضمون نگار ڈاکٹر عبدالحفیظ شاہ سرکار میں اسپیشل سکریٹری کے عہدے پر فائزہیں۔ وہ ایک مصنّف، کالم نویس اور ترغیبی مقرر ہیں۔
فون نمبر7006309344