محمد امین میر
ہر ادارے کی تاریخ میں کچھ ایسے موڑ آتے ہیں جب اُسے ٹھہر کر اپنا جائزہ لینا، غور و فکر کرنا اور سمت درست کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ جموں و کشمیر کی پٹواری برادری کے لیے وہ لمحہ اب آ پہنچا ہے۔ چند گمراہ اہلکاروں سے متعلق حالیہ واقعات نے صرف انتظامی یا قانونی سوالات ہی نہیں اٹھائے بلکہ عوامی اعتماد، اخلاقی طرزِ عمل اور محکمۂ مال کی مستقبل کی ساکھ سے متعلق ایک گہری اخلاقی اور ادارہ جاتی خود احتسابی کو جنم دیا ہے۔اسی تناظر میں جموں و کشمیر پٹواری ایسوسی ایشن کے اپیکس صدر صوفی غلام محمد کا مضبوط اور واضح بیان غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کی جانب سے غلط عناصر کو تنبیہ اور ضلع سطح پر مشاورتی پروگرام منعقد کرنے کی ہدایت محض داخلی ہدایت نہیں بلکہ ایک واضح عزم کا اعلان ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسوسی ایشن صورتِ حال کی سنگینی کو سمجھتی ہے اور برادری کی طویل المدتی عزت کے تحفظ کے لیے کڑوے سچ کا سامنا کرنے کو تیار ہے۔
بقول ِ صدر صوفی غلام محمد،’’چند افراد کے غیر ذمہ دارانہ، غیر اخلاقی اور غیر قانونی اقدامات پوری برادری کی شبیہ کو داغدار نہیں کر سکتے اور نہ ہی کرنے دی جائے گی ۔‘‘
یہ جملہ آج کے بیشتر سرکاری اداروں کو درپیش بنیادی مسئلے کی عکاسی کرتا ہےکہ کس طرح چند افراد کی بدعنوانی کو اجتماعی دیانت اور خدمت کی روایت سے الگ رکھا جائے۔
پٹواری ۔ریاست کا پہلا چہرہ: دیہی اور نیم شہری ہندوستان، خصوصاً جموں و کشمیر میں، پٹواری محض محکمۂ مال کا ایک نچلے درجے کا ملازم نہیں بلکہ عام شہری کے لیے ریاست کا پہلا اور نمایاں چہرہ ہے۔ پیدائش، وفات، وراثت، انتقالِ اراضی، معاوضہ، امداد اور ترقیاتی منصوبے،یہ سب پٹواری کے دفتر سے شروع ہوتے ہیں۔مہاتما گاندھی نے کہا تھا:’’کسی بھی معاشرے کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین افراد کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔‘‘محکمۂ مال کے نظام میں یہی پٹواری طے کرتا ہے کہ کمزور کو تحفظ ملے گا یا استحصال۔ ایک بے ایمان اندراج کسی غریب خاندان کو آبائی زمین سے محروم کر سکتا ہے، جبکہ ایک دیانت دار قدم نسلوں کو تحفظ دے سکتا ہے۔دہائیوں سے جموں و کشمیر کے ہزاروں پٹواریوں نے مشکل حالات سیاسی بے یقینی، سیکورٹی چیلنجز، عوامی دباؤ اور انتظامی بوجھ کے باوجود دیانت سے خدمات انجام دی ہیں۔ ادارہ انہی باوقار اہلکاروں کی بنیاد پر قائم و دائم ہے۔ چند بدعنوان رویوں کی وجہ سے اس روشن ورثے کو دُھندلا دینا تاریخی ناانصافی ہوگی۔
سزا نہیں، رہنمائی کیوں ضروری ہے؟: اے جے کے پی اے کا صرف تادیبی کارروائی کے بجائے رہنمائی اور ذہن سازی پر زور دینا ادارہ جاتی اصلاح کی بالغ نظری کا ثبوت ہے۔ سزا صرف علامات کا علاج کرتی ہے جبکہ رہنمائی اصل وجوہات کو نشانہ بناتی ہے۔اپیکس باڈی کے تجویز کردہ ضلعی مشاورتی اجلاس چار بنیادی ستونوں پر مشتمل ہیں:
اخلاقی طرزِ عمل اور پیشہ ورانہ نظم و ضبط۔بدعنوانی اور بدعملی کے قانونی نتائج۔شفافیت، جوابدہی اور منصفانہ عوامی رویہ۔برادری کی عزت و وقار کا تحفظ۔یہ محض نظریاتی باتیں نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی عملی ضرورت ہیں جو تیزی سے ڈیجیٹلائزیشن اور عوامی نگرانی کے دور سے گزر رہا ہے۔البرٹ آئن اسٹائن کے الفاظ میں:’’مثال قائم کرنا اثر انداز ہونے کا ایک ذریعہ نہیں، بلکہ واحد ذریعہ ہے۔‘‘سینئر افسران اور تنظیمی قائدین کو وہی اقدار اپنی ذات میں مجسم کرنی ہوں گی جو وہ نوجوان اہلکاروں میں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ مشاورتی پروگرام خلوص سے منعقد ہوں تو یہ نوجوان اور کمزور اہلکاروں کو غلط راستوں سے بچا سکتے ہیں اور ایماندار خدمت پر فخر بحال کر سکتے ہیں۔
زیرو ٹالرنس۔ ایک لازمی اخلاقی مؤقف: جہاں رہنمائی اصلاح کا راستہ ہے، وہیں اپیکس صدر کے بیان میں احتساب کے معاملے پر کوئی ابہام نہیں۔ یہ واضح اعلان کہ’’
اے جے کے پی اے کسی بھی ایسے اہلکار کو نہ تحفظ دے گی نہ اس کی حمایت کرے گی جو بدعنوانی، بدعملی یا ایسے افعال میں ملوث پایا جائے۔‘‘
[email protected]