محمد ایوب گنائی
سیجل کو دیکھتے ہی سینے میں وہی پرانی گھٹن لوٹ آئی ۔ وہ احساس جو برسوں سے کہیں دل کے کسی گوشے میں دبا پڑا تھا۔ مگر آج، طویل وقت گزرنے کے بعد، منظر بدلا ہوا تھا۔
سیجل نے مجھے گلے لگایا تو وہ ضبط میں نہ رہ سکی۔ آنسو اس کی آنکھوں سے بہنے لگے۔ میں شش و پنج میں پڑ گئی۔ یہ وہی سیجل تھی جو کبھی اعتماد، حسن اور دولت کے حصار میں رہتی تھی۔ جس کے انداز میں بے نیازی اور لہجے میں غرور ہوا کرتا تھا۔ ہم اسکول سے کالج تک ساتھ پڑھتی رہیں۔ سیجل خود پسندی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ امیر والدین، خوبصورت چہرہ اور آرام دہ زندگی نے اسے دوسروں سے بے نیاز بنا دیا تھا۔
مجھے آج بھی کالج کا وہ سالانہ فنکشن یاد ہے جب میں نے مہینوں کی بچت سے ایک ریشمی جوڑا خریدا تھا۔ میں بڑی ریجھ سے تیار ہو کر پہنچی تو سیجل اپنی سہیلیوں کے جھرمٹ میں کھڑی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی قریب آئی، میرے دوپٹے کا کپڑا انگلیوں سے مسلا اور بڑی معصومیت سے کہنے لگی: “ارے نرگس! یہ رنگ تم پر جچ تو رہا ہے، مگر تم نے اس بازار سے کیوں لیا جہاں سے میرے گھر کے ملازم خریداری کرتے ہیں؟ اگلی بار مجھ سے پوچھنا، میں تمہیں اپنے ڈیزائنر کا پتہ دے دوں گی۔”
اس نے یہ بات کسی دشمنی میں نہیں بلکہ اپنی فطری شاہانہ بے نیازی میں کہی تھی، مگر وہ جملہ میرے کانوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح اترا۔ اس کے نزدیک وہ ایک مشورہ تھا، میرے لئے وہ میری اوقات کی یاد دہانی تھی۔
میں اندر ہی اندر حسد میں جلتی رہتی۔ اس کی چمکتی گاڑیاں میری آنکھوں میں حسرت جگا دیتیں، مہنگے کپڑے دل میں ایک انجانی بے چینی پیدا کرتے۔ گھر آ کر معمولی باتوں پر جھگڑ پڑتی اور اپنی قسمت کو کوستی رہتی۔ مجھے یوں لگتا جیسے اس کی ہر کامیابی میرے زخموں کو اور گہرا کر دیتی ہو۔
ایک دن خبر ملی کہ سیجل نے کالج چھوڑ دیا ہے اور اعلیٰ تعلیم کے لئے لندن چلی گئی ہے۔ یہ سن کر عجیب سا سکون محسوس ہوا۔ کم از کم اب روز اس کا سامنا تو نہ ہوگا۔ وقت گزرتا گیا۔ میری شادی ہو گئی۔ آج میں دو بچوں کی ماں ہوں، مگر دل میں وہ خوشی پیدا نہ ہو سکی جس کا خواب دیکھا تھا۔ عامر برسوں پہلے روزگار کی تلاش میں دور نکل گئے تھے۔ میں ان کی کمائی اور ذمہ داریوں میں الجھ کر خود کو بھولتی چلی گئی۔
سیجل کو دوبارہ دیکھنا میرے لئے چونکا دینے والا لمحہ تھا۔ وہ اب پہلے جیسی نہ تھی۔ لباس سادہ، چہرہ بغیر بناؤ سنگھار کے اور آنکھوں میں تھکن صاف نظر آ رہی تھی۔ اس کی شخصیت میں وہ پرانا اعتماد کہیں کھو چکا تھا۔ راستے میں اس نے کہا: ’’نرگس، کہاں جا رہی ہو؟ آؤ، میں چھوڑ دیتی ہوں۔‘‘
کچھ لمحے خاموشی رہی، پھر میں گاڑی میں بیٹھ گئی۔ میں نے طنزیہ انداز میں پوچھا: ’’سیجل، تم تو ہمیشہ بے فکری اور شوخی کی مثال ہوا کرتی تھیں، آج یہ سادگی کیوں؟‘‘
میری بات سن کر اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ میرے دل میں برسوں سے جمع حسد اور طنز آہستہ آہستہ پگھلنے لگا۔ کچھ دیر بعد اس نے دھیمی آواز میں کہا: ’’نرگس، میں ہمیشہ غفلت میں رہی۔ دولت کے نشے میں خود کو سب سے برتر سمجھتی رہی۔ لیکن جب حقیقت سامنے آئی تو سب کچھ بدل گیا۔ لندن میں اچانک شدید سر درد شروع ہوا۔ ٹیسٹوں سے معلوم ہوا کہ دماغ میں خطرناک ٹیومر ہے۔ علاج کے کئی راستے آزمائے، مگر امید دم توڑتی چلی گئی۔ اب میں بہت تھک چکی ہوں، نرگس۔ زندگی کا بوجھ سنبھالنا مشکل ہو گیا ہے۔‘‘
اسی لمحے گاڑی میرے گھر کے سامنے رک گئی۔ وہ بس اتنا کہہ سکی: ’’مجھے معاف کر دینا۔‘‘ اور پھر وہ گاڑی سمیت اندھیرے میں گم ہو گئی۔
میں خاموشی سے گھر میں داخل ہوئی۔ اس رات دیر تک آنسو بہتے رہے۔ مجھے پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ میں بھی ایک دوڑ میں لگی ہوئی تھی، ایسی دوڑ جس کا کوئی انجام نہ تھا۔ اسی رات میں نے عامر کو فون کیا۔ رو پڑی، بیماری کا بہانہ کیا اور اسے جلد وطن واپس آنے پر آمادہ کر لیا۔ چند دن بعد عامر کی واپسی نے دل کو عجیب سا سکون دیا۔ میں نے خود سے وعدہ کیا کہ اب شکوے کم اور ساتھ زیادہ ہوگا۔ قناعت اور رفاقت ہی اصل دولت ہے۔
کچھ دن بعد ٹی وی پر خبر نشر ہوئی: ’’مشہور صنعت کار خاور صدیقی کی بیٹی سیجل صدیقی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں۔‘‘
انا للہ و انا الیہ راجعون۔
سیجل کے جانے نے مجھے زندگی کا سب سے بڑا سبق سکھایا۔ واقعی، کبھی کبھی کسی اور کا دکھ انسان کو اس کا اصل چہرہ دکھا دیتا ہے،وہ چہرہ جو آئینے میں نہیں، احساس میں نظر آتا ہے۔
���
ترال پلوامہ ، کشمیر
موبائل نمبر؛9596359446