تھنہ منڈی// تعلیمی زون تھنہ منڈی میں مختلف سرکاری اسکولوں میں کام کر رہے باورچی گزشتہ 3 سال سے مشاہرے سے محروم ہیںجبکہ اراضی کے عوض انہیں معاوضہ بھی فراہم نہیں کیا گیا۔ سرکاری اسکولوں میں مڈ ڈے میل پکانے والے باورچی جو ان اسکولوں میں بچوں کے برتن مانجھ کر گزر بسر کرتے ہیں، محکمہ تعلیم کی طرف امتیازی سلوک کاشکار بنے ہوئے ہیں ۔ ان باورچیوں کو ماہانہ 1000 روپے مشاہرہ فراہم کیا جا تاہے جو بھی وقت پر نہیں دیاجارہا۔ان باورچیوں نے محکمہ کو اپنی زمین بھی دے دی لیکن کا معاوضہ بھی فراہم نہیں کیاگیا۔ زون میں کام کر رہے باورچیوں نے محکمہ تعلیم پر الزام عائد کیا ہے کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہاہے اور گزشتہ 3 سال سے مشاہرہ نہیں دیا گیا۔ محمد اقبال جو مڈل اسکول سرونوالہ میں گزشتہ دس سال سے بطور باورچی کام کر رہے ہیں،کا کہنا ہے کہ وہ اسکول میں بچوں کے برتن مانجھ کر بچوں کا پیٹ پالتا ہے مگرگزشتہ 3 سال سے کوئی مشاہرہ نہیں دیا گیا۔ محمد اقبال کاکہنا تھاکہ اس نے اسکول کی تعمیر کے لئے 3کنال اور 7 مرلے زمین دی ہے جسکے عوض کوئی معاوضہ فراہم نہیں کیا گیااور محکمہ نے اسے کہیں کا نہیں چھوڑا۔اس کاکہناہے کہ جب زون دفتر میں مشاہرہ کے بارے میں پوچھنے جاتے ہیں تو وہاں تعینات ملازم ٹال مٹول کرکے واپس بھیج دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ زون دفتر میں انکے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے جبکہ وہ دفتر میں اپنا حق مانگنے جاتے ہیں۔مڈل اسکول لوہر پنگائی میں کام کر رہی باورچی روبینہ کو ثرنے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ اسے گزشتہ دو سال سے مشاہرہ نہیں دیا جارہا۔ انہوں نے کہا مرکز اور ریاستی سرکار ان باورچیوں کے ساتھ بھدا مذاق کر رہی ہیںاوراتنا قلیل مشاہرہ بھی وقت پر نہیں ملتا۔اس ضمن میں زونل ایجوکیشن آفیسر تھنہ منڈی نے کہاکہ دفتری اوقات میں اسکی چھان بین کی جائے گی کہ ان باورچیوں کو مشاعرہر فراہم کرنے میں کیوں تاخیر ہوئی ہے۔