یو این آئی
سکما//چھتیس گڑھ کے ضلع سکما میں نکسل مخالف مہم کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ پولیس کے بڑھتے ہوئے اثر اور ریاستی حکومت کی باز آباد کاری کی پالیسی سے متاثر ہو کر ماؤ نواز تنظیم کے کل 22 ارکان نے منگل کو پولیس سپرنٹنڈنٹ آفس سکما میں منعقدہ ایک تقریب میں خود سپردگی کی۔خود سپردگی کرنے والوں میں ایک خاتون سمیت جی آر ڈی ملیشیا کمانڈر، آر پی سی ملیشیا ممبران، جنگل کمیٹی کے صدور اور کے اے ایم ایس کی رکن سمیت تنظیم کے مختلف عہدوں پر کام کرنے والے کیڈرز شامل ہیں۔ یہ تمام سکما ضلع کے دور دراز جنگلاتی علاقوں کے رہائشی ہیں۔بحالی سے نئی زندگی مہم کے تحت ان نکسل انتہاپسندوں کو معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ مہم چھتیس گڑھ حکومت کی “چھتیس گڑھ نکسل انتہاپسندوں کی خود سپردگی/متاثرین کی امداد اور باز آباد کاری پالیسی-2025” کے تحت چلائی جا رہی ہے۔افسران نے بتایا کہ ضلع میں مسلسل کامیاب حفاظتی مہمات، نئی سکیورٹی کیمپوں کے قیام اور سڑک کنیکٹی ویٹی میں توسیع سے ماؤ نوازوں کے حوصلے پست ہوئے ہیں۔ دور افتادہ علاقوں تک ترقیاتی کاموں کی رسائی اور پولیس کے بڑھتے ہوئے اثر نے ان کی تنظیم کو کمزور کر دیا ہے، جس سے متاثر ہو کر یہ فیصلہ کیا گیا۔پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ ان خود سپردگی کرنے والے ماؤ نوازوں کی بحالی میں ڈی آر جی سکما ، ضلع فورس سکم، رینج فیلڈ ٹیم (آر ایف ٹی) جگدل پور اور سی آر پی ایف کی 02، 74، 111، 223، 227 واہنی اور کوبرا 201 واہنی کی انٹیلی جنس شاخ نے اہم رول ادا کیا ہے۔