ایجنسیز
کاروار (کرناٹک)// بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے کہا ہے کہ مستقبل کی جنگیں کسی ایک فوجی سروس کے ذریعے نہیں لڑی جا سکتیں، بلکہ بری، بحری اور فضائی افواج کو ایک قوم کے طور پر مشترکہ انداز میں کام کرنا ہوگا۔وہ بدھ کے روز آئی این ایس مالون کی کمیشننگ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ آئی این ایس مالون ماہے کلاس اینٹی سب میرین وارفیئر شالو واٹر کرافٹ کا دوسرا جنگی جہاز ہے۔ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے کہا کہ فوجی ٹیکنالوجی کو اس رفتار سے ترقی دی جانی چاہیے کہ وہ وقت کے تقاضوں کے مطابق مؤثر رہے، کیونکہ تاخیر سے حاصل ہونے والی ٹیکنالوجی درحقیقت کھوئی ہوئی ٹیکنالوجی کے مترادف ہوتی ہے۔انہوں نے بالخصوص بھارتی فضائیہ کا حوالہ دیتے ہوئے فضائی شعبے میں خود انحصاری (آتم نربھر بھارت) کے ہدف کو تیزی سے حاصل کرنے پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا،’’مستقبل کی کوئی بھی جنگ کسی ایک فوجی سروس کے ذریعے نہیں لڑی جائے گی۔ چاہے ہم نیلے لباس میں ہوں (فضائیہ)، سفید لباس میں ہوں (بحریہ)، یا زیتونی سبز وردی میں (بری فوج)، یا کسی بھی اتحادی سروس سے تعلق رکھتے ہوں، ہمیں ایک قوم کے طور پر مل کر لڑنا ہوگا، تبھی ہم کامیاب ہوں گے۔‘‘ایئر چیف مارشل نے کہا کہ گزشتہ چار سے پانچ برسوں کے دوران، خصوصاً چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے عہدے کے قیام کے بعد، تینوں افواج کے درمیان مشترکہ تعاون کو جو رفتار ملی ہے، وہ آئندہ مزید مضبوط ہوگی۔انہوں نے کہا، ’’ہم سب مل کر آگے بڑھیں گے اور ملک کے لیے مزید عظمت اور کامیابیاں حاصل کریں گے۔‘‘تقریب میںوائس ایڈمرل سنجے واتساین، فلیگ آفیسر کمانڈنگ اِن چیف ویسٹرن نیول کمانڈ، بحریہ کے سینئر افسران، سابق فوجی اہلکاروں اور سرکاری ادارے کوچین شپ یارڈ لمیٹڈ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔