سرینگر// حکومت نے2018میں ہوئے پنچایتی و بلدیاتی انتخابات کے دوران ڈیوٹی دینے والے ملازمین کے حق میں ایک ماہ کی اضافی تنخواہ واگزار کرنے کے دوران الائونس دینے کو عمل کو غیر قانونی قرار دیکر اسے واپس لینے کے احکامات صادر کئے ہیں۔سرکاری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ ریاستی انتظامی کونسل کی31اگست2018کی میٹنگ میں پنچایتی و بلدیاتی انتخابات میں تعینات ملازمین کے حق میں ایک ماہ کی اضافی تنخواہ دینے کی منظوری دی گئی تھی۔ سرکاری احکامات کی رو سے ریاست بھر میں’ ڈی ڈی اوز ‘نے ملازمین کے حق میں ایک ماہ کی اضافی تنخواہ نکالی۔جبکہ ، پرنسپل اکاؤنٹنٹ جنرل ، جموں کشمیر نے سابق ریاستی حکومت کے ان ملازمین کے حق میں ایک ماہ کی اضافی تنخواہ دینے کے دوران مختلف الاؤنسز کے قابل قبول ہونے کے بارے میں وضاحت مانگی ، کیونکہ بہت سے ڈرائنگ اور ڈسبرسنگ افسران نے سرکاری حکم کے مطابق تنخواہ کیساتھ ہی ایچ آر اے(رہائشی کرایہ الائونس)سی سی اے( سٹی کمپنسیٹری الائونس) بھی نکالا۔ سرکاری آرڈر میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے کی محکمہ میں جانچ کی گئی اور یہ بات سامنے آئی کہ جموں کشمیرسول سروسز ضوابط (جلد یکم) کے دفعہ 27 شق(بی) کے مطابق ، تنخواہ کی تعریف میں مقامی الاؤنس ، ہاوس رینٹ الائنوس، ڈیپوٹیشن الاؤنس ، سفری الائونس شامل نہیں ہے۔ حکم نامہ کے مطابق ان الاؤنسز کی ادائیگی ملازمین کے حق میں غلط طریقے سے کی گئی جس کے نتیجے میںخزانہ عامرہ کو 43.29 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ یہ رقومات ان ملازمین و افسراں کے علاوہ ان ملازمین سے بھی واپس وصول کی جائے،جو سبکدوش ہوگئے ہیں۔ سرکار نے متعلقہ ڈرائنگ و ڈسبرسنگ افسران اور ٹریجری افسراں کو ہدیت دی ہے کہ ان احکامات کی روشنی میںحاضر سروس ملازمین و افسراں کے علاوہ سبکدوش ملازمین و پنشنروں سے،جنہوں نے اضافی تنخواہ میں دیگر الائو نس بھی حاصل کئے ہیں، سے فوری طور وصول کیا جائے۔