بلال فرقانی
سرینگر // یوم جمہوریہ کے موقعہ قابل قدر کارکردگی دکھانے والے 131افراد کو اعزازات سے نوازا گیا ہے جن میں 5کو پدم وبھوشن،13کو پدم بھوشن اور 113کو پدم شری ایواڑ دیئے گئے۔ ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں جموں و کشمیر سے برج لال بھٹ ( سماجی کام) اورشفیع شوق( تعلیم اور لٹریچر) کے علاوہ لداخ سے ڈاکٹر پدما گرمیت ( میڈیسن) شامل ہیں۔
پروفیسر شفیع شوق
پروفیسر شفیع شوق کشمیری زبان و ادب کے ممتاز محقق، شاعر، مترجم اور استاد ہے۔ ان کی پیدائش 1950 میں ضلع شوپیاں کے گاؤں کاپرین میں ہوئی۔انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد ڈگری کالج اننت ناگ سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی، بعد ازاں جامعہ کشمیر سے انگریزی ادب میں ایم اے اور پی ایچ ڈی مکمل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے باوجود ان کی اصل وابستگی کشمیری زبان سے رہی اور انہوں نے اپنی علمی صلاحیتوں کو اپنی مادری زبان کے فروغ کے لیے بروئے کار لایا۔پروفیسر شفیع شوق نے کشمیری، اردو، ہندی اور انگریزی میں100 سے زائد کتابیں تصنیف، مرتب اور ترجمہ کیں۔ ان کی نمایاں تصانیف میں’’کیشْر لغات‘‘،’’کیشریْک گرامر‘‘ اور’’کاشِر زبان تہ ادبْک تواریخ‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے ’دی بیسٹ آف کشمیری لٹریچر‘ سیریز کے ذریعے کشمیر کے کلاسیکی ادبی سرمائے کو محفوظ کر کے نئی نسل تک پہنچایا۔جامعہ کشمیر میں بطور پروفیسر ان کی تدریسی خدمات کئی دہائیوں پر محیط رہیں۔ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں انہیں کئی قومی سطح کے اعزازات سے نوازا گیا، جن میں 2006 کا ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، 2007 کا ساہتیہ اکادمی ترجمہ ایوارڈ، بھارتی بھاشا سمان ایوارڈ اور بہترین استاد ایوارڈ شامل ہیں۔
برج لعل بھٹ
بریج لال بھٹ اپنی عوامی سطح پر سرگرم خدمات کے لیے معروف ہیں۔ انہوں نے یوگا تعلیم ر، روحانی تربیتی کیمپوں اور بھنڈارا سیوا کے ذریعے روحانی و سماجی اداروں کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ہمہ گیر میلوں اور سماجی پروگراموں کے انعقاد کے ذریعے سماجی ہم آہنگی اور فرقہ وارانہ یکجہتی کو فروغ دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بنجر زمین کو سیب اور اخروٹ کے باغات میں تبدیل کر کے دیہی ترقی میں بھی عملی حصہ لیا۔ ان کی خدمات کو اس لیے بھی سراہا جاتا ہے کہ وہ سماجی خدمت، روحانی بیداری اور ماحولیاتی ذمہ داری کو یکجا کرتی ہیں۔برج لال بھٹ نے کشمیری لوک گیتوں کو نئی نسل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے گیتوں میں کشمیر کی وادیوں، جھیلوں، ندیوں، محبت اور تہذیب کی خوشبو محسوس کی جا سکتی ہے۔ ان کی موسیقی مہاجر کیمپوں میں رہنے والے کشمیری پنڈتوں کے لیے اپنے وطن سے جذباتی رشتہ قائم رکھنے کا ذریعہ بنی۔