عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// پولیس اہلکار عاشق حسین قریشی پرحملے کے بعد کریک ڈائون کرتے ہوئے، حکام نے جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں لشکر طیبہ کے دو مبینہ سرگرم ملی ٹینٹوں کے مکانات کو مسمار کر دیا ۔اعلی عہدیدار نے بتایا کہ بجبہاڑہ اننت ناگ کے گوری وان بستی میں لشکرکے ملی ٹینٹ عادل احمد ٹھوکر کے گھر کو کنٹرول شدہ آئی ای ڈی ڈیوائسز کا استعمال کرتے ہوئے مسمار کر دیا گیا۔درمیانی رات کی گئی ایک الگ کارروائی میں، ہارون رشید گنائی ولد عبدالرشید گنائی، ساکن حسن پورہ تویلہ بیجبہاڑہ کے ایک منزلہ رہائشی مکان کو بھی مسمار کر دیا گیا۔ ہارون 2018 سے لشکر سے وابستہ ہے۔انسداد ملی ٹینسی کی کارروائی سیکورٹی فورسز نے مشترکہ طور پر کی۔بارہمولہ ضلع میں امن عامہ اور سلامتی کو برقرار رکھنے کی اپنی مسلسل کوششوں کے ایک حصے کے طور پر، پولیس نے جموں و کشمیر کے باشندوں کی رہائش گاہوں پر تلاشی کی کارروائیاں کیں جو اس وقت پاکستان (پی او کے) میں مقیم ہیں، ان کے خاندان کے افراد، اور پولیس سٹیشن بجگامہ اوڑی کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔عہدیداروں نے کہا کہآپریشنز پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوئے اور تلاشی کے دوران کوئی قابل اعتراض مواد برآمد نہیں ہوا۔
گرفتاریاں
پولیس ہیڈ کانسٹیبل کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں بڑے پیمانے پر سیکورٹی کریک ڈائون شروع کیا گیا، جس میں 3500سے زیادہ مشتبہ اوور گرائونڈ ورکرزکو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق وادی بھر میں 3,500 سے زیادہ گرفتاریاں کی گئیں اور، تلاشی میں شدت لائی گئی۔ پولیس نے جمعرات کو حملہ آور کا سراغ لگانے کے لیے تلاشی مہم تیز کر دی ہے۔ایک سینئر پولیس اہلکار نے کہا، “انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں زوروں پر ہیں اور، اب تک پوچھ گچھ کے لیے 3,500 سے زیادہ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیاہے۔”انہوں نے کہا کہ حملہ آور اور اس کے ساتھیوں کو فرار ہونے سے روکنے کے لیے مختلف مقامات پر موبائل گاڑیوں کے چیک پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔
اہلکار نے بتایا کہ اننت ناگ اور ملحقہ علاقوں میں اضافی پولیس اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے کیونکہ ضلع بھر میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں تیز ہو گئی ہیں۔گرفتار افراد میں سرینگر میں 700 کو حراست میں لیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ، “خاص طور پر جنوبی کشمیر میں، حملے میں ملوث افراد یا ملی ٹینٹوں کو لاجسٹک مدد فراہم کرنے والوں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تلاشی اور تصدیقی مہم جاری ہے۔”۔پولیس نے مقدمہ درج کرکے حملے کی تفصیلی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے جبکہ ملوث ملی ٹینٹوں کی شناخت اور انہیں بے اثر کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ان کے والد ہیڈ کانسٹیبل غلام محی الدین قریشی 1990 کی دہائی میں ڈیوٹی کے دوران رامبن میں لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اپنے والد کی موت کے بعد، قریشی نے SRO-43 ہمدردانہ تقرری کی پالیسی کے تحت پولیس فورس میں شمولیت اختیار کی۔ان کے پسماندگان میں اہلیہ، دو بیٹے، ایک بیٹی، ان کی بیوہ والدہ، ایک بھائی اور تین شادی شدہ بہنیں ہیں۔لولی پورہ کے لوگوں کے لیے عاشق محض ایک پولیس والا نہیں تھا۔ وہ بیٹا تھا جس نے اپنے باپ کی وراثت کو آگے بڑھایا، وہ شخص جس نے اپنی بیوہ ماں کا ساتھ دیا، اپنے خاندان کی دیکھ بھال کی اور اپنے کندھوں پر ڈالی گئی ہر ذمہ داری کو خاموشی سے نبھا دیا۔بیرواہ اور اس سے ملحقہ علاقوں کے ہزاروں لوگوں نے نم آنکھوں کے ساتھ نماز جنازہ میں شرکت کی۔