سرینگر// جموں کشمیر میں کورونا لاک ڈائون کے نتیجے میں مسلسل5 ویں ہفتے بھی جامع مسجد سرینگر اور درگاہ حضرت بل سمیت خانقاہوں و بڑی مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی نہیں ہوئی ۔قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے لاک ڈائون کی پاسداری نہ کرنے کی پاداش میں91کیسوں کا اندراج کیا،جبکہ192افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ جموں کشمیر میں29مئی سے جاری لاک ڈائون میں اگرچہ اس ہفتے2دنوں کیلئے تجارتی سرگرمیوں کی محدود اجازت دی گئی تاہم مجموعی طور پر جمعہ کو37ویں روز بھی بندشوں کا سلسلہ جاری رہا۔ جمعہ کو گزشتہ دنوں کے برعکس بندشوں میں سختی دیکھنے کو ملی،تاہم لازمی سروس سے وابستہ عملے کی نقل و حمل بلا خلل جاری رہی۔ وادی کے تمام اضلاع میں جمعہ کو اضافی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا تھا اور لاک ڈائون کے نفاذ کو سخت کردیا گیا تھا۔وسطی کشمیر کے علاوہ جنوبی اور شمالی کشمیر میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔اس دوران جموں میں بھی لاک ڈائون کا اچھا خاصا اثر دیکھنے کو ملا اور انتظامیہ و قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے لاک ڈائون کے نفاذ میں کوئی کثر باقی نہیں رکھی۔ نجی ٹرانسپورٹ سڑکوں پر دیکھنے کوملا تاہم مسافر بردار ٹرانسپورٹ سڑکوں سے دور رہا۔ وادی کے برعکس تاہم جموں کے اضلاع میں کورونا بندشوں میں نرمی دیکھنے کو ملی۔ خطہ چناب اور پیر پنچال میں بھی اسی طرح کی صورتحال دیکھنے کو ملی۔قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے کرونا سے متعلق میعاری عملیاتی طریقہ کار اور ضوابط کی خلاف ورزی کی پاداش میں3814 افراد کے خلاف کاروائی عمل میں لائی اور ان سے4لاکھ35ہزار روپے کا جرمانہ وصول کیا۔