محتشم احتشام
پونچھ// سماجی و سیاسی رہنما ریاض بشیر ناز نے یونیورسٹی آف جموں کی جانب سے برصغیر کی دو عظیم علمی و فکری شخصیات سرسید احمد خان اور علامہ اقبال کو نصاب سے خارج کرنے کے مبینہ فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے نہ صرف افسوسناک بلکہ ’علمی و تہذیبی وراثت پر کھلا حملہ‘ قرار دیا ہے۔اپنے بیان میں ریاض بشیر ناز نے کہا کہ سر سید احمد خان اور علامہ اقبال ایسی ہمہ جہت شخصیات ہیں جنہوں نے برصغیر کی فکری تشکیل، تعلیمی اصلاحات اور سماجی بیداری میں بنیادی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سر سید احمد خان نے علی گڑھ تحریک کے ذریعے جدید تعلیم، سائنسی شعور اور اصلاحِ معاشرہ کی بنیاد رکھی، جس کے اثرات آج بھی تعلیمی اداروں میں واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ علامہ اقبال کی شاعری اور فلسفہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کے لیے امید، خودی اور فکری آزادی کا پیغام ہے۔ ‘‘اقبال نے انسان کو اپنی ذات پہچاننے، غلامی سے نکلنے اور اعلیٰ مقاصد کے حصول کی تلقین کی، ان کی فکر آج بھی نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ناز نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جامعات کا بنیادی مقصد طلبہ کو مختلف نظریات، تاریخ اور افکار سے روشناس کرانا ہوتا ہے تاکہ وہ تنقیدی سوچ پیدا کر سکیں۔
اگر ہم نصاب سے عظیم مفکرین اور مصلحین کو نکال دیں گے تو طلبہ کی فکری تربیت ادھوری رہ جائے گی، جو کسی بھی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس فیصلے پر نظر ثانی کرے اور اس حوالے سے ماہرین تعلیم، تاریخ دانوں، ادیبوں اور طلبہ نمائندوں کے ساتھ بامعنی مشاورت کرے۔ ’ایسے حساس اور اہم فیصلے یکطرفہ نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ اجتماعی دانش اور علمی مکالمے کے ذریعے کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہاکہ ریاض بشیر ناز نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں جب دنیا علم، تحقیق اور مکالمے کی طرف بڑھ رہی ہے، ایسے میں نصاب کو محدود کرنا یا مخصوص شخصیات کو خارج کرنا ایک منفی رجحان کو فروغ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ طلبہ میں برداشت، تنوع اور ہم آہنگی کو فروغ دیں نہ کہ تنگ نظری کو۔انہوں نے اس فیصلے کے خلاف علمی و سماجی حلقوں سے آواز بلند کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ صرف دو شخصیات کا معاملہ نہیں بلکہ ہماری مشترکہ علمی شناخت اور تاریخی تسلسل کا مسئلہ ہے، جس کا دفاع کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ادھر تعلیمی و ادبی حلقوں میں بھی اس معاملے پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ کئی اساتذہ، طلبہ اور دانشوروں نے نصابی تبدیلیوں میں شفافیت، توازن اور جامع مشاورت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس فیصلے کے خلاف بحث جاری ہے، جہاں بڑی تعداد میں لوگ اسے غیر مناسب قرار دے رہے ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ یونیورسٹی انتظامیہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی اور ایک ایسا نصاب تشکیل دیا جائے گا جو برصغیر کی ہمہ رنگ علمی، ادبی اور فکری روایت کی صحیح نمائندگی کرے۔