سرینگر //جموں و کشمیر میں ہینڈلوم اور ہینڈی کرافٹس شعبہ کو ترقی دینے کیلئے حکومت کی جانب سے بنائی گئی ’’ ہینڈلوم اور ہینڈی کرافٹ پالیسی 2020‘‘ میں سرکار نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں ہینڈلوم مصنوعات کا برآمدی کاروبار متواتر طور پر کم ہورہا ہے۔ پالیسی میں بتایا گیا ہے کہ پاور لوم کا استعمال، مارکیٹنگ کی کمی، مقامی اور ملکی بازار میں مصنوعات کی کم مقدار، قرضوں کی سہولیات کی عدم دستیابی اور بُنکروں کیلئے سماجی بہبود مثلاً صحت اور انشورنس اسکیموں کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس صنعت میں لوگوں کی دلچسپی ختم ہوگئی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں سال 2015-16 میں ہینڈلوم مصنوعات بر آمد کرنے کا کاروبار 242کروڑ روپے تک پہنچ گیا تھا لیکن سال 2016-17میں یہ کاروبار کم ہوکر 235 کروڑ روپے رہا۔ سال 2017-18 کے درمیان کاروبار میں 25کروڑ روپے کی کمی درج کی گئی اور یہ 210کروڑ روپے پر سمٹ گیا ۔ سال 2019میں کاروبار مزید 10کروڑ روپے کم ہوکر 200 کروڑ سالانہ تک پہنچ گیا ۔ ایڈیشنل اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہینڈلوم مشتاق احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’پشمینہ اور کانی شال کے کاروبار میں کوئی کمی نہیں آئی ہے لیکن عربی رومال، کمبل اور ٹویٹ کا کپڑا، چین سٹچ کیلئے استعمال ہونے والا کپڑا، رفل شال اور دیگر مصنوعات کے کاروبار میں کمی آئی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ پشمینہ اور کانی شال کے کاروبار میں اضافہ ہونے لگا ہے اور قالین صنعت سے جڑے لوگ اب پشمینہ اور کانی شال کی صنعت کو اپنا رہے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ ہینڈلوم کے کاروبار میں کمی کی کئی وجوہات ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے سال 2014میں کشمیرکی گھریلو دستکاریوں کو زبردست نقصان پہنچا اور یہ کاروبار 1695کروڑ روپے سے کم ہوکر 1200کروڑ روپے تک پہنچ گیا ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ سال 2015میں یورپی یونین میں مندی کی وجہ سے اس کاروبار میں مزید 200کروڑ روپے کی گراوٹ آئی اور کاروبار ایک ہزار کروڑ روپے تک سمٹ گیا ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اس کیلئے مقامی سطح کے ناسازگار حالات اور بین الاقوامی سطح کی صورتحال کارفرما ہے‘‘۔ انہوں نے کہا’’ امسال پوری دنیا میں عالمی وباء کی وجہ سے تجارت کو کافی نقصان پہنچا اور کشمیر کی گھریلو دستکاریوں کو بھی اس سے نقصان ہوا ہے‘‘۔ جوائنٹ ڈائریکٹر ثریانرگس نے بتایا ’’ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ عالمی وباء کی وجہ سے اس کاروبار کو کافی نقصان پہنچا کیونکہ فی الحال لوگوں کی ترجیحات میں خریداری شامل نہیں ہے کیونکہ عالمی سطح پر مالی اور اقتصادی حالات سازگار نہیں رہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ ہینڈلوم سے جڑی مصنوعات کے کاروبار کو بڑھاوا دینے کیلئے’’ ہینڈلوم ولیج‘‘ ہر ضلع میں قائم کرنے کا منصوبہ سرکار کو بھیجا گیا ہے لیکن ابھی تک سرکارکی جانب سے منصوبہ کو منظوری نہیں دی گئی‘‘۔