ایجنسیز
کٹھمنڈو//ایک رپورٹ کے مطابق 2026 میں گنگا بیسن اْن 12 بیسنز میں شامل ہے جہاں برف کے قیام کی سطح معمول سے زیادہ رہی، تاہم مجموعی طور پر ہندوکش ہمالیہ خطے میں برف کی مقدار مسلسل چوتھے سال کم رہی اور پچھلے سال کے ریکارڈ کم درجے کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ہندوکش ہمالیہ اسنو اپڈیٹ، جو کہ انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ کی سالانہ رپورٹ ہے، خطے میں موسمی برف کے تغیرات کی نگرانی کرتی ہے اور نومبر سے مارچ کے درمیان برف کے قیام کا جائزہ پیش کرتی ہے۔2003 سے 2026 کے درمیان HKH خطے میں 14 سردیوں کے موسم ایسے رہے جن میں برف کی مقدار معمول سے کم رہی، اور حالیہ برسوں میں اس رجحان کی شدت اور تسلسل میں اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق، سال 2026 مسلسل چوتھا سال ہے جب برف کی مقدار معمول سے کم رہی، اور یہ اوسط سے 27.8 فیصد کم ہو کر گزشتہ سال کے 23.6 فیصد کے ریکارڈ کو بھی عبور کر گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ برف کے ذخائر میں مسلسل کمی دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلے میں ایک نظامی بحران کی نشاندہی کرتی ہے، جو تقریباً دو ارب افراد کے لیے پانی کی فراہمی کو خطرے میں ڈال رہی ہے، جو HKH سے نکلنے والے 12 بڑے دریائی نظاموں پر انحصار کرتے ہیں۔آئی سی آئی موڈ کے مطابق ‘‘اسنو پرسسٹنس’’ سے مراد وہ وقت ہے جب برف گرنے کے بعد زمین پر برقرار رہتی ہے۔اب ان 12 میں سے 10 دریائی بیسنز میں برف کی مقدار معمول سے کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق میکونگ، تاریم اور تبتی سطح مرتفع میں گزشتہ 24 برسوں کی کم ترین سطح ریکارڈ کی گئی۔صرف دو بیسنز—گنگا (16.3 فیصد زیادہ) اور ایراوڈی (21.8 فیصد زیادہ)—میں معمول سے زیادہ برف ریکارڈ ہوئی، مگر یہ بہتری خطے کے مجموعی بحران کو کم کرنے کے لیے ناکافی ہے۔اس کے برعکس میکونگ (منفی 59.5 فیصد)، تبتی سطح مرتفع (منفی 47.4 فیصد) اور سالوین (منفی 41.8 فیصد) میں شدید کمی دیکھی گئی۔رپورٹ کے مصنف شیر محمد کے مطابق، ’’ہم ایک مستقل رجحان دیکھ رہے ہیں جس میں موسمی برف کے ذخائر ہر سال کم ہو رہے ہیں۔ 2026 کے اعداد و شمار ایک خطرناک موڑ کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں 12 میں سے 10 بیسنز معمول سے کم سطح پر ہیں۔‘‘تقریباً 24 کروڑ افراد ہمالیہ سے نکلنے والے دریاؤں جیسے سندھ، گنگا اور برہم پتر پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ مزید ایک ارب افراد ان دریاؤں کے زیریں علاقوں میں رہتے ہیں۔گنگا بیسن میں اس سال برف کی مقدار 16.3 فیصد زیادہ رہی، جس سے ابتدائی موسم میں پانی کی دستیابی بہتر ہونے کی توقع ہے۔برہم پتر بیسن میں 2019 میں برف کی سطح 27.7 فیصد زیادہ رہی تھی، جبکہ 2025 میں یہ 27.9 فیصد کم ہو گئی۔ 2026 میں بھی یہ رجحان جاری رہا اور برف کی مقدار 6.1 فیصد کم ریکارڈ کی گئی۔رپورٹ کے مطابق برف میں کمی سے پن بجلی کی پیداوار اور زراعت متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر گرمیوں کے آغاز میں، جس سے مربوط آبی وسائل کے انتظام کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔