راجوری/سرنکوٹ//نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سیکریٹری وسابق وزیرڈاکٹر مصطفی کمال نے کہاہے کہ علیحدگی پسندوں کے خلاف قومی تحقیقاتی ایجنسی کی کارروائی مسئلہ کشمیر کو دبانے کی غرض سے ہے نہیں تو خود ہندوستان بھی ان لیڈران کو پیسہ دیتاآیاہے۔موصوف نے اپنے خطہ پیر پنچال کے دورے پر راجوری میں ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستان کی جماعتیں ہی علیحدگی پسندوںکو پیسہ دیتی آئی ہیں جس کا خلاصہ خفیہ ایجنسی راکے سابق آفیسر نے اپنی کتاب میں کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے پیسہ بھیجا جارہا ہے یا نہیں ،اس کا ثبوت مرکز کے پاس نہیں ،اگر کوئی ثبوت ملاہے تو وہ یہ ہے کہ مرکزہمیشہ سے علیحدگی پسندوں لیڈروں کو پیسہ دیا تاکہ جموں کشمیر میںنیشنل کانفرنس کو دفن کیا جاسکے اور یہی وجہ ہے کہ مرحوم مفتی محمد سعید کو مرکزی سرکار نے چند روزکے لئے وزیر داخلہ بناکر جگموہن قاتل کو کشمیر بھیج کر یہاں خون کی ہولی کھیلنے اور بعد میں یکے بعد دیگر ریاست کی خصوصی پوزیشن کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ شروع کیا ۔مصطفی کمال نے کہا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کی ذمہ داری براہ راست سابق وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے شدت پسند جماعت کو کشمیر میں وارد کر کے ایسے حالات پیداکئے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ 70سال سے مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈالاگیاہے جس کی وجہ سے کشمیر میں پرتناؤ حالات پیداہورہے ہیں اورمرکزی حکومت سب کچھ دیکھنے کے باوجود بھی چشم پوشی کررہی ہے ۔ مصطفی کمال نے کہا کہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری اور صدر امریکہ نے بھی مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا تعاون دینے کی یقین دہانی کرائی تاہم وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے لوک سبھا میںممبر فاروق عبداللہ کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیااور کہاکہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کسی تیسرے فریق کی ضرورت نہیں ۔ کمال کاکہناتھاکہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جس کا حل وقت کی ضرورت ہے اور یہی دونوں ممالک کے سود مند رہے گا کہ وہ اس مسئلے کو حل کریں ۔دریں اثناء مصطفی کمال نے پارٹی کے بلاک صدر بفلیاز بابو خان کی وفات پر ان کے گھر جاکر تعزیت پرسی کی ۔ اس دوران ان کے ہمراہ نیشنل کانفرنس کے سینئر نائب صدر سید مشتاق بخاری ،صوبائی یوتھ اعجاز جان و دیگر کارکنان بھی تھے ۔کمال نے بابو خان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ وہ ایسے کارکن تھے جنہوںنے ہمیشہ پارٹی کیلئے ایمانداری سے کام کیا اور ان کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ انہوںنے لواحقین کو یقین دلایاکہ وہ دکھ کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں ۔اس دوران انہوںنے کارکنان سے کہاکہ وہ محنت اور ایمانداری سے کام کریں ۔