اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں ہر بندے کو عطا کر رکھی ہیں ،وہ ان کو اپنی کمائی اور اس کمائی کو اپنا کمال سمجھتا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ اس پر اللہ کا فضل ہے۔ ہم اگر کبھی اس پرسنجیدگی سے غور کریں تو یہ جان کر حیران ہوں گے کہ سوچ کے اسی زاؤیے نے دنیا میں بہت بڑا عدمِ توازن پیدا کر رکھا ہے۔ اگر ہر اچھائی کو اللہ کا فضل سمجھا جائے تو ان نعمتوں کے حاملین میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا اور شکر کا یہ جذبہ ان کو ان نعمتوںکے صحیح استعمال میں صرف ہونے کا اصل سبب بنے گا۔ اب اگر ان کو اپنا کمال سمجھا جائے گا تو بندے میں کبر وغرورپیدا ہوگا کو خداداد نعمتوں کو کے غلط سلط استعمال پر منتج ہو گا۔ آج کل کے انسان میں سوچ کا یہی منفی زاؤیہ بہت نمایاں ہے جو کہ کفران ِ نعمت ہونے کے ناطے انسانیت کے لئے ایک المیہ ہے۔ اس سے بڑھ کر المیہ یہ ہے کہ مسلمان بھی اسی منفی ذہنیت کا شکار ہوگیا ہے جو کہ اس کے زوال وادبار کا ایک بنیادی سبب بنا ہواہے۔ آپ تھوڑا غور وفکر کیجیے تو دیکھیں گے کہ دنیا میں بسنے والے ہم لوگ کس درد و کرب میں مبتلا ہیں۔ فکر مندی کی بات یہ ہے کہ ہماری قوم دوسرے جابر وظالم اقوام کے لئے ایک تجربہ گاہ بن گئی ہے جو اپنے زہر ناک منصوبوں کو کامیاب بنانے کے لئے مسلسل ہمیں اپنا تختہ ٔ مشق بناتی رہتی ہیں اور ہر بار ہمارے خلاف کامیاب رہتی ہیں۔ یہ حقیقت ہمیں تسلیم کرنی چاہیے کہ آج کی تاریخ میںہم اپنے مقصدِ وجود کے مفہوم سے بھی ناآشنا ہیں۔ یہاں تک کہ قوم کے بہت سے افراد نے اپنے ذاتی اغراض کی خاطر قوم تک کو قربان کیا جس کی سزا اب کئی نسلوں کو بھگتنا پڑ رہی ہے۔ مثلاً ہمارے قومی اور سماجی ادارے بے سمتی کے شکار ہیں اور ہمارے اسکول،کالج ، ہسپتال ، سڑکیںوغیرہ خستہ حالی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم انفرادی زندگی کو ہی زندگی گردانتے ہیں اور سماجی زندگی کو کوئی زندگی کا جزولاینفک قرار نہیں دیتے۔ہم اپنی چار دیواری کے اندر کے معمولات زندگی گردانتے ہیں اور چار دیواری کے باہر کی زندگی کو گویا زندگی تسلیم ہی نہیں کرتے ۔ اگر ایسی سفلانہ وطفلانہ سوچ ہم میں نہ ہوتی تو ہمارے قومی ادارے ہمارے گھروں سے عالی شان ہوتے ،یا کم ازکم ہمارے گھروں جیسے ہوتے۔ چونکہ ایسی مثبت سوچ کہیں پنپ نہیں رہی ہے، لہٰذا اس کے جو برے نتائج برآمد ہونے چاہیے، وہ ہمارے سامنے ہیں۔
اس حوالے سے میں اپنے ساتھ پیش آئے ایک واقعہ کو بطورِ مثال پیش کرنا چا ہوں گا۔ ابھی چند ماہ پہلے مجھے ایک ملک کا سفر درپیش تھا۔ جب دہلی سے جہاز میں بیٹھا تو جہاز کا عملہ سواریوں میں کھانا تقسیم کرنے لگا۔ ہماری سیٹ کے آگے والی سیٹ پر کسی مغربی ملک کے تین مسخرے قسم کے اَن پڑھ دِکھنے والے نو جوان بیٹھے تھے جو خود کو تیس مار خان سمجھ رہے تھے۔ جہاز کا عملہ جب انہیں خوان بانٹنے لگا تو بڑی احتیاط اور خندہ پیشانی سے ان سے پیش آرہاتھا، حتیٰ کہ طیارے کے باورچی خانے کا منیجر خود ان کی خبر گیری کے لئے آتا رہا۔ میرے ساتھ ایک دوسرے صاحب بیٹھے ہوئے تھے( جو اعلیٰ تعلیم یافتہ مدرس ہیں) انہیں بھی میری طرح جہاز کے عملے کا یہ امتیازی طرز عمل بُرا لگا ۔ ہم اس کاتوڑ کر نے کے لئے اب ائر ہوسٹس سے کبھی چائے ، کبھی کافی ، کبھی پانی ، کبھی جوس وغیرہ کا تقاضا کر نے لگے۔ جب انہیں اس بات کا اندازہ ہوا کہ ہم بھی خود ان مغربیوں کے برابر ہیں تو وہ ہمارا خیال بھی اسی طرح کرنے لگے جیسے ان گوروں کا خاص خیال رکھتے تھے۔ میں نے کچھ احباب سے اس واقعہ کو بعد میں شیٔرکیا تو راز یہ کھلا کہ جو اہل مغرب ہماری آگے والی سیٹ پر تشریف فرما تھے وہ اپنی انفرادی طور سے عزت و تکریم کے مستحق نہیں سمجھے جاتے ہیں بلکہ یہ لوگ اصل میں اپنے قومی تشخص کی بر قراری سے دنیا بھر میں خود کو اسپیشل ٹریٹمنٹ کامستحق بناتے پھر تے ہیں۔ چونکہ ان کی قوم نے اپنی قومی حیثیت میں عزت کا مقام پایا ہے، لہٰذا اسی حیثیت سے وہ ہر جگہ اپنا منفرد وجود منواتے رہتے ہیں اور ہم جو ان کے پیچھے والی سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے، اپنی قومی حیثیت کی عزت و تکریم منوا نے میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کھلے عام کر تے ہیں ،اس لئے دنیا بھی ہمیںmistreat کر تی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نہ میری پروفیسری اور نہ میرے ہم سفر دوست کی اعلیٰ تعلیم اور استاذی ان مغربیوں کے گنوار پن پر فوقیت پاگئی۔ بہر حال میرا مدعا یہ نہیں کہ کسی اپنے یا غیر کی عزت وتکریم سے گریر کیا جائے بلکہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے اپنے کھوئے ہوئے وقار ومعیارکو واپس اپنی طرف پلٹتا دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کے لئے اول فرداًفرداً ہر میدان ِ عمل میں کڑی محنت کر نا ہوگی ، دوم اپنی انفرادیت کو زندہو پائندہ رکھنا ہوگا اور سوم اپنے قومی تشخص کی بازیابی اور عزت وآبرو کی بحالی کے لئے کمر ہمت باندھ لینی ہوگی تب جاکر دنیا ہمیں اپنے سر آنکھوں پر بٹھائے گی جیسے تاریخ نے کئی صدیوں تک ہمارے عروج وترقی کا نظارہ رشک اور فخر کے ساتھ کیا، ورنہ ہمارا حال یہ ہوگا ؎
ہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیا
رہ گئی اپنے لئے ایک خیالی دنیا
………………………
رابطہ: گورنمنٹ ڈگری کالج۔۔۔ شوپیان کشمیر
فون نمبر+ 91, 9797289295