گردش ِحال
بابر حسین
تاریخ کی سب سے بڑی غلط فہمی یہ رہی ہے کہ طاقت ہمیشہ توپ، ٹینک اور فوجی پریڈوں میں نظر آتی ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ عالمی طاقت کا اصل کھیل اکثر خاموشی سے کھیلا جاتا ہے۔ بندرگاہوں میں، سمندری گزرگاہوں میں، ڈیٹا سینٹرز میں، Artificial Intelligence کی لیبارٹریوں میں، اور ان Satellites میں جو زمین کے گرد خاموشی سے گردش کر رہے ہوتے ہیں۔ اکیسویں صدی کی دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں عالمی سیاست کو صرف “International Relations” نہیں بلکہ ایک وسیع Game of Global Thrones کے طور پر سمجھنا زیادہ مناسب محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا کھیل جس میں امریکہ اپنی برتری برقرار رکھنا چاہتا ہے، چین عالمی نظام میں اپنی جگہ ازسرِنو متعین کر رہا ہے، جبکہ روس اپنی عسکری اور تزویراتی طاقت کے ذریعے اس توازن کو مسلسل چیلنج کر رہا ہے۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والا عالمی نظام بڑی حد تک امریکی قیادت کے گرد گھومتا رہا۔ Bretton Woods System، امریکی Dollar، IMF، World Bank، NATO اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے امریکی فوجی اڈے اس نظام کی بنیاد بنے۔ Stockholm International Peace Research Institute (SIPRI) کے مطابق امریکہ کا دفاعی بجٹ 900 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جو دنیا کے کسی بھی ملک سے کئی گنا زیادہ ہے۔ Al Jazeera اور مختلف بین الاقوامی تحقیقی اداروں کے مطابق امریکہ تقریباً 80 ممالک میں 700 سے زائد فوجی تنصیبات یا عسکری موجودگی رکھتا ہے۔ یہی وہ Blue Water Navy ہے جو بحرالکاہل سے لے کر خلیج فارس اور بحیرہ روم تک اپنی موجودگی ثابت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
تاہم عالمی تاریخ کا پہیہ ایک نئی سمت اختیار کر رہا ہے۔ چین اب صرف “World Factory” نہیں رہا بلکہ ایک ایسی طاقت میں تبدیل ہو چکا ہے جو عالمی نظام کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ World Bank اور IMF کے اعداد و شمار کے مطابق چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے جبکہ Purchasing Power Parity کے پیمانے پر کئی شعبوں میں امریکہ کا مقابلہ کر رہا ہے۔ چین کی Belt and Road Initiative محض اقتصادی منصوبہ نہیں بلکہ اکیسویں صدی کا سب سے بڑا جغرافیائی و تزویراتی منصوبہ ہے۔ گوادر (پاکستان)، Hambantota (سری لنکا)، Djibouti (افریقہ) اور درجنوں دیگر بندرگاہوں میں چینی سرمایہ کاری اس بات کی عکاس ہے کہ بیجنگ عالمی تجارتی راستوں پر اپنی طویل المدتی موجودگی یقینی بنانا چاہتا ہے۔
اس عالمی کشمکش کا سب سے حساس محاذ South China Sea بن چکا ہے۔ ہر سال تقریباً 5 Trillion Dollars کی تجارت اسی سمندری راستے سے گزرتی ہے۔ دنیا کی ایک تہائی Maritime Trade اور خطے کی بڑی معیشتوں کی توانائی سپلائی اسی راستے سے وابستہ ہے۔ چین نے مصنوعی جزائر (Artificial Islands) تعمیر کر کے وہاں Airstrips، Radar Systems اور Missile Platforms نصب کیے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ Freedom of Navigation Operations کے نام پر اپنی بحری موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہاں اصل سوال صرف سمندر کی ملکیت کا نہیں بلکہ مستقبل کی عالمی تجارت، توانائی اور جغرافیائی بالادستی کا ہے۔اگر چین معیشت اور انفراسٹرکچر کے ذریعے اپنا اثر بڑھا رہا ہے تو روس ایک مختلف راستہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ Ukraine War نے یہ واضح کر دیا کہ Cold War کے خاتمے کے باوجود طاقت کی سیاست ختم نہیں ہوئی۔ روس کے پاس دنیا کا سب سے بڑا جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہے اور توانائی کی عالمی منڈی میں اس کا کردار اب بھی اہم ہے۔ 2007کے Estonia Cyber Attack سے لے کر Information Warfare اور Hybrid Warfare تک، ماسکو نے یہ ثابت کیا کہ جدید جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی لڑی جاتی ہیں۔ آج Cyber Space بھی ایک نیا Battlefield بن چکا ہے جہاں خاموش حملے پوری ریاستی مشینری کو مفلوج کر سکتے ہیں۔لیکن شاید اس پوری کہانی کا سب سے اہم باب Technology Race ہے۔ Artificial Intelligence، Quantum Computing، Semiconductors، Cyber Security اور Big Data اب صرف سائنسی اصطلاحات نہیں بلکہ قومی طاقت کے بنیادی پیمانے بن چکے ہیں۔ امریکہ نے جدید Semiconductor Technology تک چین کی رسائی محدود کرنے کے لیے متعدد Export Controls نافذ کیے ہیں، جبکہ چین نے ٹیکنالوجیکل خود انحصاری کے لیے اربوں ڈالر مختص کیے ہیں۔ Huawei سے لے کر AI Research Labs تک، یہ مقابلہ دراصل مستقبل کی عالمی قیادت کا مقابلہ ہے۔ آنے والے برسوں میں وہی ملک برتری حاصل کرے گا جو Data، Computing Power اور Innovation پر زیادہ کنٹرول رکھے گا۔
اسی دوران ایک اور خاموش مگر انتہائی اہم میدان ابھر رہا ہے:Space. امریکہ، چین اور روس تینوں خلائی پروگراموں میں تاریخی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ Satellites اب صرف سائنسی تحقیق کے لیے استعمال نہیں ہوتے بلکہ Navigation، Banking Systems، Communications، Intelligence Gathering اور Military Operations کی بنیاد بن چکے ہیں۔ چین کا Chang’e پروگرام، امریکہ کا Artemis Mission اور روس کی خلائی حکمتِ عملی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مستقبل کی Geopolitics صرف زمین تک محدود نہیں رہے گی۔ جو طاقت خلا میں برتری حاصل کرے گی، وہ زمین پر بھی فیصلہ کن اثر و رسوخ قائم کر سکے گی۔
یہ تمام عوامل ایک ایسے عالمی منظرنامے کو جنم دے رہے ہیں جہاں جنگ اور امن کے درمیان روایتی حد بندیاں دھندلی ہوتی جا رہی ہیں۔ آج طاقت صرف فوجی طاقت کا نام نہیں، بندرگاہیں، Supply Chains، Rare Earth Minerals، Artificial Intelligence، Cyber Networks اور Global Narratives بھی اسی طاقت کا حصہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور کی کشمکش کو محض امریکہ اور چین کی رقابت یا روس اور مغرب کی دشمنی سمجھنا کافی نہیں۔ درحقیقت یہ ایک نئے عالمی نظام کی تشکیل کی جنگ ہے۔
دنیا اس وقت ایک تاریخی عبوری مرحلے سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف وہ طاقت ہے جس نے گزشتہ آٹھ دہائیوں تک عالمی نظام کی قیادت کی، اور دوسری طرف وہ قوتیں ہیں جو اس نظام میں اپنے لیے زیادہ بڑا اور زیادہ بااثر کردار چاہتی ہیں۔ شاید آنے والے برسوں میں کوئی ایک فاتح سامنے نہ آئے، لیکن اتنا ضرور طے ہے کہ بحرالکاہل کی لہروں سے لے کر Silicon Valley کی لیبارٹریوں، South China Sea کے مصنوعی جزیروں، Ukraine کے محاذوں اور زمین کے مدار میں گردش کرتے سیٹلائٹس تک ایک خاموش مگر فیصلہ کن مقابلہ جاری ہے۔ یہی مقابلہ آنے والی نسلوں کی معیشت، سلامتی، ٹیکنالوجی اور مستقبل کا تعین کرے گا۔ اور اسی لیے اکیسویں صدی کی سب سے بڑی کہانی کا عنوان شاید یہی ہے۔
[email protected]