عظمیٰ نیوزسروس
جموں// جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں اور نہ ہی اشیائے ضروریہ کا ذخیرہ کریں، کیونکہ حکومت صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور یونین ٹیریٹری میں ایندھن یا کھانا پکانے والی گیس کی کوئی کمی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی حالات کا اثر بھارت پر بھی پڑ سکتا ہے، جس میں مہنگائی شامل ہے، تاہم موجودہ صورتحال ایسی نہیں کہ گھبرا کر خریداری کی جائے۔انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا’’میں سوشل میڈیا پر موجود لوگوں سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ افواہیں نہ پھیلائیں۔ افواہیں خوف و ہراس پیدا کرتی ہیں۔ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، پیٹرول پمپس پر جھگڑے شروع ہو گئے ہیں، شدید رش ہے اور لوگ گیس ایجنسیوں پر سلنڈر لینے کے لیے جمع ہو رہے ہیں، جس سے دھکم پیل اور افراتفری پیدا ہو رہی ہے۔ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ جب تک عالمی صورتحال مستحکم نہیں ہوتی، اس کے اثرات بھارت پر بھی پڑتے رہیں گے، جس میں مہنگائی بھی شامل ہے۔نائب وزیر اعلیٰ نے یقین دلایا کہ انتظامیہ اشیائے ضروریہ کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے کہا’’حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور عوام کو درکار اشیائے ضروریہ کی کوئی کمی نہیں ہونے دی جائے گی۔ اگر کبھی کوئی مسئلہ ہوا تو حکومت خود میڈیا کو آگاہ کرے گی‘‘۔انہوں نے ذخیرہ اندوزی سے گریز کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عام صارفین متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ غیر ضروری ذخیرہ اندوزی دوسروں کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے۔چودھری نے سوشل میڈیا پر غلط معلومات اور کردار کشی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور میڈیا اداروں سے پیشہ ورانہ معیار برقرار رکھنے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ میڈیا کو بدنام کر رہے ہیں اور ایسے افراد کی نشاندہی ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا کو چاہیے کہ وہ ایسے عناصر سے خود کو دور رکھے اور ضروری کارروائی کرے۔انہوں نے کہا کہ بغیر تصدیق کے معلومات پھیلانے سے لوگوں کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے۔انکاکہناتھا’’ہم نے دیکھا ہے کہ بغیر تصدیق کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ پہلے کسی خبر کو شائع کرنے سے پہلے اس کی جانچ ہوتی تھی، لیکن اب بعض اوقات بغیر ٹھوس ثبوت کے لوگوں کو بدنام کیا جاتا ہے‘‘۔ذمہ دار صحافت پر زور دیتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میڈیا کو اپنے معیار بلند رکھنے چاہئیں تاکہ اس پر انگلی نہ اٹھائی جا سکے بلکہ لوگ اس کی تعریف کریں۔