گول//گزشتہ شب سے سب ڈویژن گول میں شدید بارشوں کی وجہ سے انسانی زندگی محصور بن گئی ہے اور ندی نالیوں میں طغیانی کی سی صورتحال بنی ہوئی ہے ۔ وہیں شدید بارشوں کی وجہ سے سڑکیں زیر آب ہوئیں ۔ پیر کوبعد دوپہر جاملان داڑم میں ایک استاد کی گاڑی اُس وقت ملبے میں پھنسی جب وہ گھر آ رہا تھا ۔ بتایا جاتا ہے کہ انیس الرحمان نامی یہ ٹیچر سکول سے گھر کی طرف آ رہا تھا اور جاملان میں ایک ندی پار کرنے لگا اس دوران اوپر سے پسی گر آئی جس وجہ سے گاڑی میں سوار یوں نے مشکل سے اپنی جان بچائی اور گاڑی ملبے کے نیچے آئی ۔ اس دوران فوری طور پر ملحقہ جات کے لوگ آئے اور ریلوے حکام کی مدد سے گاڑی گو ملبے سے نکالا ۔ وہیں اس دوران سب ڈویژن گول کے مختلف علاقوں میں لوگوں کو شدید بارشوں سے کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا اور لوگ گھروں میں ہی محصور رہے ۔ جو جہاں تھا وہ وہیں پھنس گیا ۔ سڑکوں میں نالیاں نا ہونے کی وجہ سے سڑکیں زیر آب ہوئیں اور تمام چھوٹی بڑی سڑکیں کھنڈرات کی شکل اختیار کر گئیں ۔ گول مین بازار ، سنگلدان ، داڑم ، اند، ٹھٹھارکہ ، داچھن ، ڈھیڈہ ، بھیمداسہ ، گاگرہ ، کلی مستا وغیرہ علاقوں کے لوگوں کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ کئی جگہوں پر پل نہ ہونے کی وجہ سے لوگ گھروں میں ہی محصور رہے اور لوگوں کو آنے جانے میں کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا ۔وہیں چنا علاقہ میں ایک اہم پل جو قریباً تین پنچایتوں کو سب ڈویژن گول کے صدر مقام سے ملاتا ہے کئی سال قبل ڈھہ گیا لیکن ابھی تک اس کی تعمیر نہ ہو سکی اور لوگ جانوں کو جوکھم میں ڈال کر اس دریا کو ایک لکڑی کے عارضی پل سے پار کرتے ہیں ۔ مقامی لوگوں نے انتظامیہ اور سرکار سے مطالبہ کیا کہ ندی نالوں کو ڈھہ گئے پلوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ سڑکوں میں آبِ نکاس کا بندوبست کیا جائے تا کہ انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ نقصانات سے بھی بچا جا سکے ۔