محمد بشارت
کوٹرنکہ //پنچائت حلقہ گکھڑوٹ بی میں واقع گورنمنٹ مڈل اسکول کنگن باس کی تشویشناک صورتحال پر مقامی لوگوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ اسکول میں تقریباً 150 طلبہ و طالبات زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ وہاں صرف دو اساتذہ تعینات ہیں۔ ان میں سے ایک استاد بی ایل او (BLO) کی اضافی سرکاری ذمہ داریاں بھی انجام دے رہا ہے، جس کے باعث تعلیمی سرگرمیاں مزید متاثر ہو رہی ہیں۔ اساتذہ کی اس شدید قلت کے باوجود تاحال محکمہ کی جانب سے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔اس سلسلہ میں ایک ویڈیو مناظر میں معصوم بچوں کو زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے دیکھا جا سکتا ہے، وہ بھی سخت سردی کے موسم میں۔ اسکول میں نہ ڈیسک موجود ہیں، نہ بینچ اور نہ ہی دیگر بنیادی تعلیمی سہولیات۔ عمارت کی حالت بھی خستہ بتائی جا رہی ہے، جو طلبہ کی حفاظت اور صحت کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ایسے ماحول میں معیاری تعلیم کا تصور بھی ممکن نہیں۔والدین اور سماجی کارکنوں نے اس صورتحال کو غریب اور کمزور طبقے کے بچوں کے ساتھ ناانصافی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بچے بھی وہی آئینی حق رکھتے ہیں جو شہری علاقوں کے طلبہ کو حاصل ہے، لیکن سہولیات کی کمی ان کے مستقبل کو داؤ پر لگا رہی ہے۔مقامی لوگوں نے وزیرِ تعلیم سکینہ ایتو سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کریں۔ ساتھ ہی حلقے کے منتخب نمائندے ایم ایل اے جاوید چوہدری سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ذاتی دلچسپی لے کر مسئلے کا فوری حل یقینی بنائیں۔علاقہ مکینوں نے حکومت اور محکمہ تعلیم کے سامنے چند فوری مطالبات رکھے ہیں، جن میں اضافی اساتذہ کی تعیناتی، طلبہ کے لیے ڈیسک اور بینچ کی فراہمی، اسکول عمارت کی مرمت اور بنیادی سہولیات کی بہتری شامل ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بچوں کے مستقبل سے سنگین ناانصافی تصور کی جائے گی۔مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور اس کی فراہمی میں غفلت کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔