مینڈھر//ریاستی حکومت کی طرف سے ڈوگری ، کشمیری اور پنجابی کو سکولی نصاب میں شامل کرنے اور پہاڑی اور گوجری زبانوں کو نظرانداز کردینے کے فیصلے کی کڑی تنقید کرتے ہوئے مینڈھر کے دونوں طبقوں سے وابستہ افراد نے کہاہے کہ پہاڑی اور گوجر لیڈران کو بھی قوم کی یاد تب آتی ہے جب الیکشن سر پر ہوتے ہیں اور انہیں ووٹ چاہئے ہوتے ہیں ۔ایڈووکیٹ فرید چوہدری ، سکندر چوہدری ، تعظیم حسین شاہ ، محمد یونس ڈار ، سفیر حسین شاہ ، عمران خان ،آصف نواز خان ،عبدالقیوم خان، محمد یوسف خان وغیرہ نے کہاکہ جب الیکشن آتے ہیں تو پہاڑی اور گوجر کارڈ کھیلاجاتاہے لیکن جب مفاد عامہ کی بات آتی ہے تو یہی سیاسی لوگ خاموش ہوجاتے ہیں ۔اُن کا کہنا ہے جب ریاستی حکومت ڈوگری ، کشمیری اور پنجابی زبان کو نصاب کو شامل کر نے میں غور کر رہی تھی تو اُس وقت اِن لیڈران نے پہاڑی اور گوجری زبان کو نصاب میں شامل کرنے کیلئے آواز کیوں بلند نہ کی اور اب جبکہ ریاستی حکومت نے زبانوں کو نصاب میں شامل کرنے کا حکم نامہ بھی جاری کر دیا ہے تو یہ لیڈران نیند سے نہیں جاگے ۔ان کا کہنا ہے کہ جب بین ضلعی بھرتی کو سرکار نے ختم کرنے کا حکم نامہ جاری کیا تھا تو اُس وقت بھی خطہ پیر پنجال سے کسی سیاسی لیڈر نے مزاحمت نہیں کی ۔انہوںنے کہاکہ کچھ کام کرنے کے بجائے یہ لیڈران مشاعرے منعقد کرارہے ہیں اور ان کیلئے خطوط تقسیم کئے جارہے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ اگر یہ لیڈران واقعی قوم کی ہمدردی رکھنے والے ہیں تو انہیں احتجاج کرناچاہئے اور یہاں تک کہ مستعفی ہوجاناچاہئے کیونکہ زبان سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں اور یہ زبان ہی ہے جو تہذیب سکھاتی ہے اور ثقافتی شناخت دیتی ہے ۔