ایجنسیز
میونخ//وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور ان کی کینیڈین ہم منصب انیتا آنند نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور شراکت داری کے نئے مواقع پر بات چیت کی۔ یہ ملاقات میونخ سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر ہوئی، جبکہ اگلے ماہ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کے ممکنہ دورہ بھارت سے قبل سفارتی روابط میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ستمبر 2025 کے بعد وزرائے خارجہ کے درمیان یہ پانچویں ملاقات ہے، جو کینیڈا اور بھارت کے تعلقات میں بڑھتی پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔ گلوبل افیئرز کینیڈا کے جاری بیان میں یہ بات اتوار کو کہی گئی۔ایس جے شنکر نے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر کہا کہ انیتا آنند سے ملاقات خوشگوار رہی اور بھارت-کینیڈا تعلقات مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے توانائی، ٹیکنالوجی اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو کی۔انیتا آنند نے بھی کہا کہ اپنے بھارتی ہم منصب سے ملاقات مفید رہی اور دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے کافی مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا بھارت کے ساتھ تعمیری روابط جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور مستقبل میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی خواہاں ہے۔دونوں وزراء نے اکتوبر 2025 میں اعلان کردہ مشترکہ روڈ میپ پر ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور اقتصادی استحکام کے لیے تجارت میں توسیع اور تنوع پر زور دیا۔بھارت-کینیڈا تعلقات اس وقت کشیدہ ہو گئے تھے جب 2023 میں اْس وقت کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے خالصتانی رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں ممکنہ بھارتی تعلق کا الزام لگایا تھا، جسے بھارت نے ’بے بنیاد‘قرار دیا۔اکتوبر 2024 میں اوٹاوا کی جانب سے بھارتی سفارتکاروں کو اس کیس سے جوڑنے کی کوشش کے بعد بھارت نے اپنا ہائی کمشنر اور پانچ سفارتکار واپس بلا لیے جبکہ جواباً کینیڈین سفارتکاروں کو بھی ملک چھوڑنا پڑا۔بعد ازاں لبرل پارٹی آف کینیڈا کے رہنما مارک کارنی کی انتخابی کامیابی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کو دوبارہ معمول پر لانے کی کوششیں شروع ہوئیں اور اب دونوں ملک ایک دوسرے کے دارالحکومتوں میں دوبارہ ہائی کمشنر تعینات کر چکے ہیں۔