یو این آئی
نئی دہلی// مرکزی حکومت نے ریاست کیرالا کا نام سرکاری طور پر بدل کر ’’کیرالم‘‘ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں ہونے والی مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں کیا گیا۔ مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے اعلان کیا کہ کابینہ نے ریاستی حکومت کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ یہ اقدام کیرالہ اسمبلی انتخابات (اپریل-مئی) سے قبل سامنے آیا ہے، جس نے سیاسی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔کیرالہ اسمبلی نے 24 جون 2024 کو متفقہ طور پر قرارداد منظور کی تھی جس میں مرکز سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ریاست کا نام آئین کی آٹھویں شیڈول میں شامل تمام زبانوں میں ’’کیرالم‘‘ درج کیا جائے۔ اس سے قبل اگست 2023 میں بھی ایسی ہی قرارداد منظور کی گئی تھی، تاہم وزارت داخلہ نے کچھ تکنیکی ترامیم تجویز کی تھیں، جس کے بعد نظرِ ثانی شدہ قرارداد دوبارہ منظور کر کے مرکز کو بھیجی گئی۔ریاست کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مقامی زبان میں ریاست کا اصل نام ’’کیرالم‘‘ ہے، لہٰذا اسے سرکاری سطح پر بھی تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق، نئی پی ایم او عمارت ’’سیوا تیرتھ‘‘ میں منعقدہ پہلی کابینہ میٹنگ میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی۔ آئینی تقاضوں کی تکمیل کے بعد نام کی تبدیلی کو باضابطہ طور پر نافذ کیا جائے گا۔سیاسی مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ انتخابی ماحول میں اہم علامتی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ریاست کی ثقافتی شناخت اور لسانی احترام کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔مرکزی کابینہ نے گفٹ سٹی سے شاہ پور تک 3.33 کلومیٹر طویل توسیع کو منظوری دی اور جس میں تین ایلیویٹڈ اسٹیشن شامل ہوں گے ۔ یہ منصوبہ تقریبا چار برسوں میں مکمل ہونے والا ہے ۔اس پروجیکٹ کی تخمینہ جاتی لاگت 1,067.35 کروڑ روپے ہے ۔ توقع ہے کہ اس توسیع شدہ راہداری سے 2029 میں تقریبا 23,702 مسافروں اور 2041 میں تقریبا 58,059 مسافروں کو فائدہ پہنچے گا ۔یہ کوریڈور احمد آباد اور گفٹ خطے کے درمیان رابطے کو مضبوط کرے گا۔ مجوزہ راستے پر واقع بڑی کثیر القومی کمپنیوں ، تعلیمی اداروں اور تجارتی مراکز کو براہ راست فائدہ پہنچے گا ۔مزید برآں ، یہ توسیع کاروبار ، روزگار اور تعلیم سے متعلق سفری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے احمد آباد اور گفٹ خطے کے درمیان سفر کرنے والے روزانہ مسافروں کے لیے فائدہ مند ہوگی ، جس سے نیٹ ورک انضمام اور مسافروں کی سہولت میں نمایاں اضافہ ہوگا ۔توقع ہے کہ اس منصوبے سے تعمیر میں تقریبا 1,000 ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ تعمیر کے بعد کے مرحلے میں آپریشن اور دیکھ بھال کے لیے تقریبا 250 افراد کو ملازمت دی جائے گی ۔ یہ پروجیکٹ اوپر بیان کردہ تعداد کے برابر براہ راست روزگار کے قابل ذکر مواقع پیدا کرے گا۔ مزید برآں ، دیگر سرگرمیاں اور بھی زیادہ لوگوں کے لیے بالواسطہ روزگار پیدا کریں گی ۔فی الحال ، گجرات میٹرو کے 68.28 کلومیٹر طویل احمد آباد میٹرو فیز-1 (اے پی ایم سی سے موٹیرا اسٹیڈیم (نارتھ-ساؤتھ کوریڈور) اور تھلٹیج گام سے واسترال گام (ایسٹ-ویسٹ کوریڈور)) اور فیز-2 (موٹیرا اسٹیڈیم سے مہاتما مندر اور جی این ایل یو سے گفٹ سٹی) کو ستمبر 2022 (فیز-1) اور جنوری-2026 (فیز-2) سے کل 53 اسٹیشنوں کے ساتھ کامیابی کے ساتھ آپریشنل کیا گیا ہے۔ اس لائن پر روزانہ مسافروں کی تعداد تقریبا 1,60,000 ہے ۔
27سال میں پہلی بار
الیکشن کمیشن کی قومی گول میز کانفرنس
یو این آئی
نئی دہلی// الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے منگل کے روز نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ریاستی الیکشن کمشنرز کے ساتھ ایک قومی قول میز کانفرنس منعقد کی، جو کہ گزشتہ 27 سال میں اس طرح کی پہلی میٹنگ ہے اس نوعیت کی آخری کانفرنس 1999 میں منعقد ہوئی تھی دن بھر جاری رہنے والی اس کانفرنس کی صدارت چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کر رہے ہیں، جبکہ الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی بھی موجود ہیں۔ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے ریاستی الیکشن کمشنرز (ایس ای سی) اپنے قانونی اور تکنیکی ماہرین کے ساتھ ان مذاکرات میں حصہ لے رہے ہیں۔ تمام 36 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے چیف الیکٹورل آفیسرز (سی ای او) بھی اس موقع پر موجود ہیں۔الیکشن کمیشن کے مطابق، اس کانفرنس کا بنیادی مقصد کمیشن اور ریاستی الیکشن کمیشنوں کے درمیان ان کے متعلقہ قانونی ڈھانچے کے اندر انتخابی عمل اور لاجسٹکس کے انتظام میں بہتر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔