پرویز احمد
سرینگر //ریشی پورہ کھمبر میں Hapititus A اور یرقان کی بیماریاں پھوٹ پڑی ہیں۔ ابتدائی طور پر بتایا گیا کہ 10سے 17سال کے بچے گندے پانی کے استعمال سے بیمار ہوئے ہیں۔ علاقے میں تعینات محکمہ صحت کے اعلیٰ افسران کا کہنا ہے کہ ابتک 5نمونوں میں ہیپٹائٹس اے کی بیماری کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ کچھ بچوں میں Jaundiceکے اثرات بھی نظر آئے ہیں ۔زونل میڈیکل افسر جڈی بل ڈاکٹر روبینہ نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ ریشی پوری کھمبر میں ایک تعلیمی ادارے کے بچے نزدیک ہی موجود ایک چشمہ کا پانی استعمال کررہے ہیں اور ا نہوں نے دست ، قے اور بخار کی شکایت کی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کی ٹیموں نے علاقے سے 5نمونے اٹھائے اور ان پانچوں نمونوں میں ہیپٹائٹس اے کی تصدیق ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ تعلیمی دارے میں زیر تعلیم چند بچوں میں یرقان کے اثرات و علامتیں بھی نظر آئی ہیں اور اسلئے ہم نے ان کی تشخیص کیلئے بھی نمونے بھیجے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان نمونوں کی رپورٹیں آئندہ 3سے 4دنوں کے اندر موصول ہونگی۔زونل میڈیکل افسر کا کہنا تھا کہ ہم ہیٹائٹس بی اور سی کا ٹیسٹ موقع پر ہی کرتے ہیں لیکن ہیپٹائٹس اے اور ای کا ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت ہمارے پاس موجود نہیں ہے اور اسلئے ڈویژنل لیبارٹری رعناواری بھیجنے پڑتے ہیں۔ ڈاکٹر روبینہ کا کہنا تھا کہ زون جڈی بل اور چیف میڈیکل افسر سرینگر کی ٹیمیں علاقے میں گھر گھر جاکر لوگوں کو ہیپٹائٹس اے اور ای کے بارے میں جانکاری دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جانکاری کیمپ کے ساتھ ساتھ ہم لوگوں کو احتیاطی تدابیر کے بارے میں بھی جانکاری دے رہے ہیں۔