ڈاکٹر آزاد احمد شاہ
کڑاکے کی سردی یعنی موسمِ سرما کا آغاز ہوچکا ہے سردیوں کے ان مہینوں میں عموماً شدت کی سردی پڑتی ہے اگر سردی سے بچاؤ کا اہتمام کیا جائے تو سردی رحمت اور اگر بے احتیاطی کی جائے تو سردیاں زحمت بن جاتی ہیں سردی اوریہ موسم کئی بیماریوں مثلاً نزلہ زکام اور کھانسی کو بھی ساتھ لیکر آتا ہے دن میں تیز دھوپ اور رات میں خنکی سے جسم کا دفاعی نظام متاثرہوتا ہے ۔سردیوں کی بے احتیاطی کا پہلا تحفہ انفلوئنزا یا وبائی فلو ہے ، ہمارے پیٹ کے اندر جگہ جگہ کام کرنے والی مشینری کا جال بچھا ہوا ہے ،یہ چھوٹی،بڑی مشینری آگ کی بھٹی کی شکل میں کافی مقدار میں خون اور چربی بنا بنا کر جسم کو گرم اور مضبوط بنانے کا کام جاری رکھتی ہیں۔ جس طرح جسم کے اندرونی کارخانے کے برابر ٹوٹ پھوٹ اور مرمت کا سلسلہ برابر چلتا ہے، اسی طرح ہر موسم میں ہمارے جسم کو زیادہ کام کرناپڑتا ہے، اس کے لئے ہمارا دفاعی نظام بہتر ہونا چاہئے۔ اس موسم کے امراض سے بچاؤ کے لئے ضروری ہے کہ درجہ ذیل تدابیر پر عمل کیاجائے ۔
موسمِ گرما میں کئی بار نہایا جاتا ہے لیکن سردی میں بعض لوگ غسل کے سلسلے میں ذرا محتاط ہوتے ہیں۔وہ لوگ جن کی صحت موسمی سختیاں برداشت نہیں کرسکتی، وہ ہفتوں بلکہ مہینوں نہیں نہاتے ۔سردی کی شدت اور نمونیا ہونے کا ڈر بجا مگر زیادہ دن نہ نہانا بھی مضر صحت ہے۔ مناسب یہ ہے کہ کم از کم ہفتہ میں ایک دفعہ غسل ضرور کریں ۔ غسل سے دورانِ خون تیز ہوتا ہے اور جسم میں فرحت و چستی پیدا ہوتی ہے۔ موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی بتدریج گرم کپڑوں کا استعمال شروع ہو جاتا ہے۔ اس موسم میں سرد و تیز ہوائیں چلتی ہیں، اس لئے ہر شخص اپنی صحت و حالات کے مطابق گرم کپڑوں کا استعمال کرے۔ گردن ،پاؤں اور سینے کو سردی سے بچانے کا خصوصی اہتمام کریں نمازِ فجر کے بعد ڈھیلے ڈھالے کپڑوں میں ہلکی پھلکی ورزش کو معمول بنا لیں ۔موسمِ سرما میں ہوا کے سرد ہوجانے سے جسم کے مسامات بند ہوجاتے ہیں، جس سے پسینہ نہیں آتا ۔ یہی وجہ ہے کہ جسم کی حرارت کا بر قرار رکھنے کے لئے زیادہ مقوی غذا کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کھانے پینے کے شوقین لوگوں کو مرغن غذا اور گرم اشیاء اعتدال کے ساتھ استعمال کرنی چاہئیں ۔ خشک میوے جات بادام، پستہ، چلغوزے، مونگ پھلی ،اخروٹ ،کاجو کا استعمال جسم کا حرارت مہیا کرتا ہے۔ اس موسم میں اشتہا بڑھ جاتی ہے تو ثقیل اشیاء بھی جلد ہضم ہوجاتی ہے، یہ موسم خوش خوراکی و خوش لباسی کے لحاظ سے بہت مناسب ہوتا ہے، اس لئے جہاں تک ممکن ہو اچھی غذا کا استعمال کریں۔
صبح و شام سردی میں بلا ضرورت باہر نہ نکلیں ۔رات چونکہ سرد و طویل ہوتی ہے، اس لئے کھلے میں یا بالکل بند کمرے میں نہ سوئیں بلکہ کھڑکی اور روشن دان ہمیشہ کھلا ہونا چاہیے ۔اپنے پاؤں کو ہمیشہ گرم رکھیں کیونکہ پاؤں کی طبعی حالت جسمِ انسانی پر بہت اثر انداز ہوتی ہے۔ موسمِ سرما میں چہرے کی جلد زیادہ متاثر ہوتی ہے، دیگر اعضاء تو کپڑوں میں ، موزوں ، اور جوتوں میں لپٹے ہوتے ہیں ، لیکن چہرہ کھلا ہونے کی وجہ سے زیادہ متاثر ہوتا ہے ۔ چہرے کی جلد خشک ہوکر پھٹ جاتی ہے ، اس لئے اگر اُس سے چہرے پر نشان پڑ جاتے ہیں، اس لے لئے چہرے کو نیم گرم پانی اور فیس واش سے دھوئیں، صابن کا استعمال کم کر دیں، گلیسرین اور عرقِ گلاب ملا کر استعمال کرنا مفید ہے۔ رات سونے سے پہلے عرقِ گلاب میں لیموں اور گلیسرین ملا کر اپنے ہاتھ ، پاؤں اور چہرے پر مل کے سوجائیں ،صبح منہ دھو لیں، آپ کا چہرہ دمک اٹھے گا۔ روزانہ رات سونے سے قبل اچھی سی کولڈ کریم کا مساج کریں ۔ لیکن صابن کا استعمال کم کردیں، اس سے جلد کی قدرتی چکنائی کم ہوجاتی ہے۔نزلہ زکام اور کھانسی موسمِ سرما کے خاص امراض ہیں ،ان سے بچاؤ کے لئے بہت احتیاط کرنی چاہیے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ نزلہ و زکام اور ٹھنڈ کا علاج اور بچاؤ روز مرہ کی خوراک میں پوشیدہ ہے۔ پھل، سبزیاں ، لہسن، سرکہ،ہلدی اور کالی مرچ وغیرہ یہ تمام غذائیں جسم کے مدافتی نظام کو مضبوط بناتی ہیں، نمک ملے پانی سے غرارے کرنا حلق کی سوزش کے لئے بہتر ہے۔ قدیم زمانے سے شہد کا استعمال ہورہا ہے، یہ کھانسی میں مفید ہے۔آپ کس طرح کی زندگی گزارتے ہیں اور کیا غذا کھاتے ہیں ،ان باتوں کا اثر آپ کے دفاعی نظام پر پڑتا ہے ، اور یہی باتیں اُسے طاقت ور اور کمزور بناتی ہیں ۔سردیوں کے لئے وٹامن سی بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سنگترے کا رس اسکا بہترین ذریعہ ہے ۔ جاڑوں کے آغاز ہی میں بازاروں میںہمیں بکثرت کینو،فروٹر، گریپ ٖفروٹ اور لیموں جیسے پھل ملتے ہیں۔ بعض آسان سے اقدامات اٹھا کر ہم بھی اپنے دفاعی نظام کو بہتر بنا سکتے ہیں یعنی اگر آپ کسی بیماری میں مبتلا ہیں، تب بھی خود کو بیمار یا کمزور محسوس نہیں کریں گے اور اس کی وجہ آپ کا مضبوط دفاعی نظام ہوگا۔سردیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے توازن و اعتدال کے ساتھ ان کا استعمال کریں اور سردیوں کا خوش دلی سے استقبال کریں۔ لہٰذا سردیوں کے اس موسم میں حفظان صحت کے باقی اصولوں اور ضوابط کا سنجیدگی سے اہتمام اور پابندی کریں۔
(مضمون نگار ایک معروف اسلامی اسکالر ہیں )
8491085053 [email protected]