سمت بھارگو
ریاسی //شری ماتا ویشنو دیوی یاترا کے راستے پر مجوزہ روپ وے منصوبے کے خلاف بدھ کے روز مقدس قصبہ کٹرہ میں مکمل اور پْرامن بند دیکھا گیا۔ یہ بند شری ماتا ویشنو دیوی سنگھرش سمیتی کی جانب سے دی گئی ایک روزہ علامتی ہڑتال کی کال پر منایا گیا جس میں تاجروں، مقامی کاروباری افراد اور مختلف سماجی تنظیموں نے بھرپور شرکت کی۔ بند کا انعقاد جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کے دورہ کٹرہ کے دوران کیا گیا جس کے باعث اس احتجاج کو خاص اہمیت حاصل رہی۔سنگھرش سمیتی کے ترجمان کے مطابق بند کے دوران کٹرہ بازار کے تمام کاروباری مراکز مکمل طور پر بند رہے جبکہ امن و امان کی صورتحال معمول کے مطابق رہی۔ ٹریفک کی آمد و رفت جاری رہی اور ہوٹلوں سمیت یاتریوں سے وابستہ بنیادی خدمات متاثر نہیں ہوئیں۔ انتظامیہ کی جانب سے بھی صورتحال پر کڑی نظر رکھی گئی تاکہ کسی قسم کی ناخوشگوار صورتحال پیدا نہ ہو۔
بند کے دوران تاجروں اور مقامی لوگوں نے ایک پْرامن احتجاجی مارچ نکالا جس میں بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ’نو روپ وے‘اور ’مقامی روزگار بچاؤ‘ جیسے نعرے لگاتے ہوئے منصوبے کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ احتجاج میں شامل افراد کا کہنا تھا کہ روپ وے منصوبہ نافذ ہونے کی صورت میں ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہوگا کیونکہ یاتریوں کی پیدل آمد و رفت کم ہونے سے مقامی دکان داروں، گھوڑا مالکان، پٹھو مزدوروں اور دیگر وابستہ طبقوں کی آمدنی پر براہِ راست اثر پڑے گا۔مظاہرین نے مزید کہا کہ شری ماتا ویشنو دیوی یاترا محض ایک سیاحتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک مذہبی عقیدت کا سفر ہے جس سے کروڑوں عقیدت مند جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ روایتی یاترا کے طریقہ کار میں اچانک تبدیلی مذہبی روایات اور عقیدت مندوں کے احساسات کے منافی ہوگی۔احتجاجی مظاہرین نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے اس حالیہ بیان کا خیر مقدم کیا جس میں انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ کٹرا کی ترقی مقامی لوگوں سے مشاورت کے بعد ہی کی جائے گی۔ سنگھرش سمیتی کے اراکین نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول تاجروں، مزدور تنظیموں اور مقامی نمائندوں کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرے اور کسی بھی منصوبے پر حتمی فیصلہ عوامی رائے کو مدنظر رکھ کر کیا جائے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ترقیاتی منصوبے ضرور شروع کیے جائیں لیکن ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو مقامی آبادی کے معاشی مفادات اور مذہبی اقدار کو نقصان پہنچائیں۔ احتجاج کے اختتام پر مظاہرین نے اعلان کیا کہ اگر مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو مستقبل میں مزید احتجاجی پروگرام ترتیب دیے جا سکتے ہیں۔مجموعی طور پر بند پْرامن رہا اور پورے قصبہ میں نظم و ضبط برقرار رہا، جبکہ انتظامیہ اور پولیس کی موجودگی کے باعث صورتحال مکمل طور پر قابو میں رہی۔