بنی / /کوٹی چنڈھیارسڑک کی تعمیرسست روی اورانتظامیہ ومتعلقہ محکمہ کی غیرسنجیدگی کے خلاف علاقہ کے لوگوں نے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔تفصیلات کے مطابق سات ہزار سے زائد آبادی پر مشتمل بنی تحصیل کا دوردراز علاقہ کوٹی چنڈھیار سڑک جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہے ۔ مذکورہ علاقے کے لوگوں نے سڑک کام جلد شروع کرنیکی مانگ کو لے کر ریاست کی مخلوط پی ڈی پی اور بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔ مظاہرین کے مطابق قبل چار سال پہلے علاقے کی سڑک کی ڈی پی آر تیارہوئی تھی اور گزشتہ سال بنی کے ایم ایل اے نے سڑک کا سنگ بنیادرکھاتھااوراس کے باوجود بھی سڑک کا تعمیری کام شروع نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کا ایک وفد نے وزیر جنگلات چوہدری لال سنگھ و دیگر اعلی لیڈران کے ساتھ ملاقات بھی کی اور ہر بار کی طرح لوگوں کو یقین دلایا گیا کہ مذکورہ علاقے کی سڑک کا تعمیری کام جلد ہی شروع کر دیا جائے گا لیکن یقین دہانی کے بعد دو ماہ گذر جانے کے بعد بھی سڑک کا کام شروع نہیں ہوا صرف لوگوں کو یقین دہانی کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوا ۔انہوں بتایا کہ گزشتہ برس بھی ایم ایل بنی نے کرائے کی مشین لا کر سڑک کا کام شروع کرایا جو کہ صرف لوگوں کو بے وقوف بنانے کا کام کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سرکاروں نے علاقے کوٹی چنڈھیار کے لوگوں کے ساتھ سْوتیلی ماں جیسا سْلوک تو کیا ہی ہے جبکہ موجودہ حکومت سے کافی اْمیدیں تھی تاہم موجودہ سرکار نے یہاں کی عوام کو بے وقوف بنا کر سڑک کا تعمیری کام شروع کیا تھا وہ سب ایک فلموں کے ٹریلر جیسا تھا ۔انہوں نے افسوس کااظہارکرتے ہوئے چار ماہ میں 26 کلو میٹر سڑک محاذ 6 میٹر ہی بن پائی ۔ انہوں نے مزیدکہا موجود سرکار کا ایک نعرہ تھا "سب کا ساتھ سب کا وکاس" اور نعرہ صرف زبانی الفاظ یا یوں کہیں کے کاغذات پر دیکھنے والے الفاظ بن کر رہ گئے ہیں ۔ مظاہرین نے علاقے کو ٹی چنڈھیار سے بنی لگ بھگ 25 کلو میٹر پیدل سفر کیا اور ریلی نکالی اور ریلی میں گدھے کو لا کر گدھے کو علاقے کی مسافرکی گاڑی بتایااور دکھایا گیا ۔ مظاہرین نے مزید کہا کہ جہاں ایک طرف بھارت کی موجودہ سرکار بلٹ ٹرین کی بات کرتی ہے اور تو وہیں بنی سے بسوہلی بھداروا ہ کو بھی ڈبل لائن کا اعلان کیا گیا ہے تو اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو ایسے ہزاروں ہی نہیں لاکھوں پسماندہ علاقے ہیں جو سڑک جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں تو پھر کس طرح ڈیجیٹل انڈیا بنانے کی بات کر رہے ہیں ۔ بعد میں انہوں نے ایس ڈی ایم بنی دفتر کے باہر دھرنا دیا اور انہوں نے کہا کہ جب تک سڑک مطالبہ کو حکومت حل نہیں کرتی ہے تو وہ اینا احتجاج جاری رکھیں گے اور کہا کہ ہمارے مطالبات کو حل نہیں گیا تو آنے والے انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے ۔