جدیدکاری کیلئے 2047تک جامع روڈ میپ پیش: نیتی آیوگ
سرینگر// نیتی آیوگ کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے باغبانی کے شعبے کو ہر سال تقریباً 3 ہزار کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ میں اس شعبے کو سال 2047 تک جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک جامع روڈ میپ بھی پیش کیا گیا ہے۔جموں و کشمیر میں باغبانی کی ترقی کے لیے روڈ میپ @ 2047 کے عنوان سے جاری اس رپورٹ کے مطابق سیب اور سبزیوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے۔ اندازے کے مطابق ہر سال تقریباً 5 لاکھ ٹن سیب اور اتنی ہی مقدار میں سبزیاں ضائع ہو جاتی ہیں، جن کی مالیت بالترتیب 1500 کروڑ اور 1560 کروڑ روپے بنتی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیری (چیری پھل) کو تناسب کے لحاظ سے سب سے زیادہ نقصان ہوتا ہے، جو 40 سے 49 فیصد تک ہے۔
دوسری جانب زعفران کی مقدار میں نقصان اگرچہ کم یعنی صرف 0.48 ٹن ہے، لیکن اس کی مالیت تقریباً 4.8 کروڑ روپے بنتی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ نقصانات زیادہ تر ذخیرہ کرنے کی ناکافی سہولیات، پروسیسنگ یونٹس کی کمی اور سپلائی چین میں موجود خامیوں کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔ باغبانی کا شعبہ جموں و کشمیر کی معیشت کا ایک اہم ستون ہے اور دیہی آبادی کی بڑی تعداد کا روزگار اسی سے وابستہ ہے۔رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ پروسیسنگ انفراسٹرکچر کو وسعت دی جائے تاکہ ضیاع کو کم کیا جا سکے اور پیداوار کی قدر میں اضافہ ہو۔ اس کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور بہتر مارکیٹ روابط قائم کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے، جس سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔ان مسائل کے حل کے لیے نیتی آیوگ نے آپریشن گولڈن گرینزکے نام سے ایک مشن بھی تجویز کیا ہے، جس کے تحت باغبانی کے مختلف شعبوں کو منظم طریقے سے ترقی دی جائے گی۔ اس میں خشک میوہ جات، تازہ پھل، سبزیاں، پھولوں کی کاشت اور دیگر چھوٹی فصلوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔روڈ میپ کے مطابق اس منصوبے کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے (2026 تا 2030) میں کولڈ اسٹوریج، لاجسٹکس اور پروسیسنگ سہولیات کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی، جبکہ بعد کے مراحل (2030 تا 2035 اور 2035 تا 2047) میں جدید ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے اس شعبے کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس منصوبے پر مؤثر طریقے سے عمل کیا گیا تو نہ صرف نقصانات میں کمی آئے گی بلکہ جموں و کشمیر کے باغبانی کے شعبے کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکے گا، جس سے معیشت کو بھی مضبوطی ملے گی۔