نائب وزیراعلیٰ کی اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت ، ضلع سطحی ٹاسک فورس کو کارروائی کیلئے مکمل اختیارات دئیے
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//نائب وزیراعلیٰ سریندر کمار چودھری نے ہدایت جاری کی کہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی کان کنی کو مکمل طور پر روکنے کے لئے کریشر یونٹوں پر ای۔چالان کے نظام کا سختی سے نفاذ، کان کنی مواد کی ٹرانسپورٹیشن کرنے والی تمام گاڑیوں میں لازمی جی پی ایس ٹریکنگ اور ’ایک پرچی ۔ ایک لوڈ‘صول پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔انہوں نے پی ڈبلیو ڈی گیسٹ ہاؤس جموں میں محکمہ کان کنی کے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے تمام اضلاع میں نفاذی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ کان کنی اشونی کمار ، چیئرمین پولوشن کنٹرول کمیٹی، ڈائریکٹر ایکولوجی، ماحولیات اور ریموٹ سنسنگ؛ ضلع ترقیاتی کمشنران( چیئرپرسنز ، ضلعی سطح کی ٹاسک فور س کمیٹیاں) بذریعہ ورچیول موڈ، ڈائریکٹر جیالوجی اینڈ مائننگ، ایم ڈی جے کے ایم ایل،سپیشل سیکرٹری محکمہ کان کنی، پولیس کے سینئرسپر اِنٹنڈنٹ، ڈائریکٹرفائنانس محکمہ کان کنی ، ڈِی ایم اوز اور دیگر سینئراَفسران نے شرکت کی۔اُنہوں نے حکومت کی جموں اور کشمیر دونوںصوبوںمیں غیر قانونی کان کنی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے سخت ہدایات جاری کیں کہ کسی بھی گاڑی کو مجاز ای۔چالان (پرچی) کے بغیر کان کنی مواد کی ٹرانسپورٹیشن کی اجازت نہیں دی جائے گی۔نائب وزیراعلیٰ نے کہا،’’ہر پرچی کے عوض صرف ایک ہی لوڈ کی اجازت ہوگی اور کسی بھی قسم کے غلط استعمال یا نقل کی صورت میں خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔‘‘ اُنہوں نے جی پی ایس ٹریکنگ کو لازمی قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ کان کنی سرگرمیوں میں شامل تمام گاڑیوں میں فعال جی پی ایس ڈیوائس نصب ہونا ضروری ہے۔اُنہوں نے مزید کہا ،’’بغیر جی پی ایس چلنے والی گاڑیوں کو فوری طور پر ضبط کیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔‘‘سریندر کمار چودھری نے منظور شدہ کھدائی کی حدود کی سختی سے پابندی پر زور دیتے ہوئے نائب واضح کیا کہ مقررہ گہرائی سے زیادہ کھدائی کی اِجازت نہیں ہوگی،مجاز دریا والے علاقوں سے باہر کان کنی نہیں ہوگی اور رات کے وقت غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اُنہوں نے محکموں کے درمیان مضبوط تال میل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی کان کنی کے خاتمے اور اِنتظامیہ کو بدنام کرنے کی کوششوں کو روکنے اور ناکام بنانے کے لئے مشترکہ ذمہ داری اور مربوط کارروائی ناگزیر ہے۔ اُنہوں نے نفاذی ایجنسیوں کو مکمل انتظامی تعاون کی یقین دہانی کی اور ضلعی سطح کی ٹاسک فورس کو خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لئے مکمل اختیارات دئیے۔نائب وزیراعلیٰ نے کہا،’’میںضلع ترقیاتی کمشنروں جو ضلعی ٹاسک فورس کے چیئرمین ہیں اور ایس ایس پیز، جو اس کے اراکین ہیں، کو مکمل اختیارات دیتا ہوں۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ غیر قانونی کان کنی میں ملوث کسی بھی فرد کے خلاف، حتیٰ کہ اگر کوئی آفیسر ملوث پایا جائے، سخت کارروائی کی جائے اور مجرموں سے نمٹنے کے دوران کسی بیرونی دباؤ یا سفارش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔‘‘اُنہوںنے محکمہ کان کنی کو ہدایات دیںکہ نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے اور زمینی سطح پر نفاذ کو مضبوط کیا جائے تاکہ قدرتی وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔نائب وزیراعلیٰ نے ضلع ترقیاتی کمشنروں کو ہدایت دی کہ کان کنی بلاکوں کی نشاندہی، ماحولیاتی منظوری، غیر قانونی یونٹوں کے منصفانہ انہدام، ،مائننگ فنڈ کے اِستعمال کے بارے میں معلومات اور تمام اضلاع میں غیر قانونی کان کنی پر مکمل پابندی کے نفاذ کی تعمیل کو یقینی بنایا جائے۔اُنہوں نے کریشر یونٹوں کے زیرِ التوا بجلی بقایاجات کی ادائیگی، ایم ڈی ایل کی معطلی اور دیگر ریاستوں و یوٹیزکی بہترین کان کنی پالیسیوں کو اپنانے کی بھی ہدایت دی تاکہ جموں و کشمیر میں کان کنی سرگرمیوں کو مؤثر طور پر منظم کیا جا سکے۔دورانِ میٹنگ نائب وزیرِ اعلیٰ نے معدنی بلاکوں کی صورتحال، ای۔نیلامی، جی پی ایس ٹریکنگ اور آئی ایم ایس ایس کے نفاذ، غیر قانونی کان کنی کے خلاف کارروائیوں، کریشر یونٹوںکی تعمیل، رائلٹی اور جرمانوں میں مجوزہ ترامیم، ڈی ایم ایف ٹی کے تحت پیش رفت، معدنیات کی کھوج کی سرگرمیوں اور محکمہ کی مجموعی ضابطہ جاتی پوزیشن کا تفصیلی جائزہ لیا۔میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے جموں و کشمیر میں غیر قانونی کان کنی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے کڑی نگرانی برقرار رکھنے اور مؤثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔میٹنگ کے شروعات میں ڈائریکٹر جیالوجی اینڈ مائننگ محکمہ نے محکمہ کی مجموعی کارکردگی اور غیر قانونی کان کنی کی روکتھام کے لئے کئے گئے اقدامات کے بارے میں میٹنگ کو جانکاری دی ۔
آج سچائی کی جیت ہوئی | عدالت نے کجریوال کو بے قصور قرار دیا: سریندر چودھری
عظمیٰ نیوزسروس
جموں// جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے جمعے کے روز ایک اہم ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو عدالت کی جانب سے بری قرار دیا جانا ’سچائی کی جیت‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قانون اور عدلیہ ہمیشہ حق کے ساتھ کھڑی رہتی ہے۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا: ’میں اروند کیجروال کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، انہوں نے ایک مشکل قانونی جنگ لڑی اور آج اس جدوجہد کی جیت ہوئی ہے۔ ہمیں اپنی جوڈیشری پر پورا بھروسہ ہے، اور آج کے فیصلے نے یہ ثابت کیا کہ کیجروال بے قصور تھے۔‘اس موقع پر جب اے سی بی کی جانب سے ان کے بھائی کے خلاف درج کیس کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو سریندر چودھری نے کہا کہ وہ انصاف کی امید رکھتے ہیں۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا:’میرے بھائی کے ساتھ انصاف ہوگا، میں اس امید کے ساتھ کھڑا ہوں۔ ایجنسیاں اپنا کام کر رہی ہیں۔ جس نے غلط کیا ہو اسے سزا ملنی چاہیے، لیکن اگر کسی نے گناہ نہ کیا ہو اور اس پر الزام لگے تو دکھ پہنچاتا ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے میں اپنے عقیدے اور اعتماد پر قائم ہیں۔’مجھے ویشنو دیوی ماتا پر پورا یقین ہے کہ ہمیں انصاف ملے گا۔ سچائی کسی نہ کسی دن سامنے آتی ہے، اور ہم اسی یقین کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔‘
تمام منرل ڈیلر لائسنس منسوخ:چودھری
عظمیٰ نیوزسروس
جموں// جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ حکومت نے ریاست بھر میں تمام منرل ڈیلر لائسنس منسوخ کر دیے ہیں اور غیر قانونی کان کنی کو روکنے کے لیے سخت ترین اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےانہوں نے اپنے حالیہ کنڈوال دورے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ غیر قانونی کان کنی نے نہ صرف ماحولیات کو شدید نقصان پہنچایا بلکہ ایک ڈیم کا راستہ موڑنے جیسا سنگین عمل بھی کیا گیا، جس کے نتیجے میں آس پاس کے علاقوں میں تباہ کن صورتحال پیدا ہوئی۔انہوں نے کہا کہ بیلی چرّانہ، کنڈوال اور دیگر متاثرہ علاقوں میں صورتحال تشویشناک ہے، اور اگر غیر قانونی کان کنی پر فوراً قابو نہ پایا گیا تو چھتہ سمیت کئی زیریں علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی آسکتی ہے۔سریندر چودھری نے واضح کیا کہ کوئی بھی گاڑی کسی کرشر یونٹ سے تب تک نہیں نکل سکتی جب تک اسے مائننگ ڈپارٹمنٹ کے مجاز نظام کے تحت جاری شدہ درست ’پرچی‘ نہ ملی ہو۔ غیر دستاویزی منرل ٹرانسپورٹیشن کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ کرشر یونٹس اور کان کنی میں مصروف تمام گاڑیوں پر جی پی ایس نصب کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ’کوئی گاڑی جی پی ایس کے بغیر نہیں چلے گی‘۔انہوں نے بتایا کہ سابقہ مائنرل ڈیلر لائسنسنگ سسٹم میں بے ضابطگیاں تھیں، جنہوں نے غیر قانونی کان کنی اور منرل ڈسپوزل کو بڑھاوا دیا۔ اسی وجہ سے تمام ایم ڈی ایلز فوری طور پر منسوخ کر دیے گئے ہیں۔مزید برآں، تمام اسٹون ٹپر پرمٹس کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، اور ضرورت پڑنے پر انہیں بھی منسوخ کیا جائے گا تاکہ شفافیت اور جوابدہی یقینی بنائی جاسکے۔
جموں ڈویژن میں غیر قانونی کان کنی کیخلاف بڑا کریک ڈاؤن
اینٹی کورپشن بیورو کے ادھم پور اور ریاسی میں اچانک چھاپے
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//خطے کے ماحول کے تحفظ اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ایک فیصلہ کن اقدام کے طور پر اینٹی کورپشن بیورونے ادھم پور اور ریاسی اضلاع میں غیر قانونی کان کنی کے خلاف وسیع پیمانے پر مشترکہ اچانک جانچ کا آغاز کیا ہے۔یہ کارروائی جموں ڈویژن میں معدنیات کی غیر قانونی نکاسی سے متعلق سنگین شکایات موصول ہونے کے بعد عمل میں لائی گئی۔ ابتدائی رپورٹس میں انکشاف ہوا کہ معدنی ٹھیکیداروں اور محکمہ کان کنی و ماحولیاتی امور کے بعض اہلکاروں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے باعث غیر قانونی سرگرمیاں بلا روک ٹوک جاری تھیں۔غیر قانونی کان کنی اور قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال کو فوری طور پر روکنے کے لیے اے سی بی کی خصوصی ٹیموں نے، گزٹیڈ افسران کی قیادت میں، دونوں اضلاع میں قائم متعدد اسٹون کرشر یونٹس پر مربوط اور اچانک معائنہ کیا۔اے سی بی حکام نے تفصیلی تلاشی کے دوران اہم الیکٹرانک آلات، ضروری ریکارڈ اور قابلِ اعتراض دستاویزات ضبط کر لیں۔کارروائی کے دوران مبینہ طور پر جعلی ’فارم۔اے‘ ٹرانزٹ دستاویزات بھی برآمد کی گئیں۔معائنہ کیے گئے تمام سٹون کرشر یونٹس غیر قانونی کان کنی میں ملوث پائے گئے۔ یہ یونٹس مقررہ شرائط و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے کام کر رہے تھے، جس سے خطے کے ماحول کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔اے سی بی نے واضح کیا ہے کہ جموں کے قدرتی وسائل کے استحصال اور بدعنوان نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔ ضبط شدہ شواہد کی بنیاد پر مزید تحقیقات تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔