عظمیٰ نیوز سروس
بنگلورو// کرناٹک کے وزیر اعلی سدارامیا نے جمعہ کو اعلان کیا کہ ریاستی حکومت نے 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگا دی ہے۔سدارامیا نے کرناٹک قانون ساز اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے یہ اہم اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ، “آئی آئی ایس سی کے تحت اے آئی اور ٹیک پارک اسرو اور کیونکس کے تعاون سے بنگلور روبوٹکس اور اے آئی انوویشن زون کے نام سے ایک روبوٹکس اور اے آئی کیمپس قائم کریں گے۔ موبائل کے بڑھتے ہوئے استعمال کے منفی اثرات کو روکنے کے لیے 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی ہوگی۔ پابندی کا مقصد موبائل فون کے بڑھتے ہوئے استعمال سے بچوں پر پڑنے والے منفی اثرات کو روکنا ہے۔”کرناٹک کے انفارمیشن ٹکنالوجی اور بایو ٹکنالوجی (آئی ٹی اینڈ بی ٹی) کے وزیر پرینک کھرگے نے 30 جنوری کو کرناٹک اسمبلی کو مطلع کیا تھا کہ نوجوانوں کے سوشل میڈیا پر بڑھتے ہوئے ایکسپوزیشن کے پیش نظر ریاستی حکومت مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے کچھ اقدامات کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہی ہے۔ادھرآندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے جمعہ کے روز ریاستی اسمبلی میں کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کی مناسب عمر کی حد مقرر کرنے پر بحث شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کی جائے گی۔وزیر اعلیٰ نے کہا، “ہمیں یہ تجویز موصول ہوئی ہے کہ 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی ہونی چاہیے۔ آئندہ 90 دنوں کے اندر ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ 13 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی نہ ہو۔ اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ عمر کی حد 13 سال ہونی چاہیے یا 16 سال۔ اگر سب اس پر متفق ہو جاتے ہیں تو ہم حتمی فیصلہ کر لیں گے۔”