عظمیٰ نیوزسروس
جموں //جے کے پی سی سی نےچھ گھنٹوں پر مشتمل ایک طویل اجلاس منعقد کیا جس میں امریکہ۔بھارت تجارتی معاہدے کے خلاف سخت مزاحمتی حکمت عملی ترتیب دی گئی۔ پارٹی نے اس معاہدے کو کسان مخالف اور فروٹ کاشتکار مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے اثرات ملک کے دیگر حصوں کی نسبت جموں و کشمیر میں زیادہ شدید ہوں گے۔اجلاس کی صدارت پی سی سی صدرطارق حمید قرہ نے کی۔ اجلاس میں کشمیر اور جموں خطوں کے تمام بیس اضلاع سے سینئر کانگریس قائدین، ارکان اسمبلی، سابق وزراء و قانون ساز، ضلعی صدور اور دیگر عہدیداران نے شرکت کی۔
آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکریٹری اور سی ایل پی لیڈرغلام احمد میر بھی اے آئی سی سی کی ہدایت پر اجلاس میں شریک ہوئے۔طارق حمیدقرہ نے کہا کہ حالیہ امریکہ۔بھارت معاہدہ کسانوں، فروٹ کاشتکاروں اور زرعی شعبے سے وابستہ دیگر طبقات کو شدید نقصان پہنچائے گا، بالخصوص جموں و کشمیر میں اس کے منفی اثرات زیادہ ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسانوں کے مفادات کو اس طرح سمجھوتے کی نذر کیا گیا ہے، جس سے پولٹری، ڈیری اور دیگر ذیلی شعبے بھی متاثر ہوں گے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم مودی نے دباؤ کے تحت قومی مفادات کو امریکہ کے ہاتھوں فروخت کیا ہے اور اپوزیشن جماعتیں اس معاہدے کے طریقہ کار اور مندرجات پر شدید اعتراض رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی جلد ہی ایک بھرپور عوامی مہم شروع کرے گی تاکہ بی جے پی حکومت کو بے نقاب کیا جا سکے۔پی سی سی صدر نے بتایا کہ کشمیر میں فروٹ کاشتکاروں اور جموں میں کسانوں کے بڑے اجلاس آئندہ ماہ منعقد کیے جائیں گے، جن میں شرکت کے لیے کانگریس صدرملک ارجن کھرگے اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو مدعو کیا گیا ہے۔ یکم مارچ اور 8 مارچ سے ضلعی سطح پر بھی پروگراموں کا آغاز کیا جائے گا۔غلام احمد میر نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ایک وزیر اعظم نے مبینہ دباؤ کے باعث کسانوں اور عوام کے مفادات کو امریکہ کے حوالے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قیادت کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور پارٹی حکومت کے ’’غلط فیصلوں‘‘ کو عوام کے سامنے لائے گی۔کارگزار صدررمن بھلانے کہا کہ پارٹی کارکنان عوام بالخصوص کسانوں تک پہنچ کر اس معاہدے کے ممکنہ نقصانات سے آگاہ کریں گے۔ انہوں نے یوتھ کانگریس کارکنان کی ستائش کرتے ہوئے ادے بھانو چب کی گرفتاری کو آمرانہ اقدام قرار دیا۔ آخر میں فیصلہ کیا گیا کہ امریکہ۔بھارت معاہدے اور یوتھ کانگریس کے خلاف حکومتی کارروائیوں کے خلاف بھرپور عوامی مہم چلائی جائے گی۔