راجوری//راجوری میں ڈینگو کی افواہ سے خوف کا ماحول پایاجارہاہے جبکہ انتظامیہ نے ابتدائی تحقیقات کے بعد ایک نجی تشخیصی لیبارٹری کو رپورٹ مثبت دینے پر سیل کردیاہے ۔ذرائع کاکہناہے کہ راجوری کے وارڈ نمبر دس اور وارڈ نمبر نو کے کئی لوگ پچھلے کچھ عرصہ سے بخار میں مبتلا ہیں جن کے بارے میں یہ افواہ پھیلادی گئی کہ وہ سبھی ڈینگو کے مرض کاشکار ہیں جس وجہ سے قصبہ میں خوف پایاجانے لگا ۔وارڈ نمبر نو کے ایک شہری نے کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے بتایاکہ ان کے علاقہ میں بیس مریض ایسے ہیں جن میں ڈینگو کا مرض پایاگیاہے جبکہ دیگر علاقوں کے کئی لوگ بھی زیر علاج ہیں ۔انہوںنے کہاکہ حکام کی طرف سے کوئی توجہ نہیں دی جارہی اور لوگوں بیمار ہوتے جارہے ہیں۔دریں اثناء ضلع انتظامیہ نے ان افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے محکمہ صحت کی طرف سے دی گئی وضاحت شیئر کی ہے ۔سرکاری بیان کے مطابق محکمہ صحت کے حکام نے تشخیص کی ہے اور راجوری میںکہیں کوئی مثبت کیس سامنے نہیں آیا تاہم پھر بھی ایسے معاملات سے نمٹنے کیلئے تمام تر تیاریاں کی گئی ہیں ۔بیان کے مطابق کل سات کیسوں کی تصدیق کی گئی جن میںسے پانچ جموں میں متاثر پائے گئے ۔وہیں ضلع انتظامیہ نے بتایاکہ ڈینگو ٹیسٹ سے متعلق غلط رپورٹیں دینے پر نجی تشخیصی لیبارٹری کو سیل کردیاگیاہے جسے ایک معروف ڈاکٹر چلارہاہے ۔انتظامیہ کے مطابق اس لیب نے سو سے زائد لوگوں کے کیس مثبت دکھائے ہیںجبکہ حقیقت میں ایک بھی کیس مثبت نہیں ۔ ذرائع کاکہناہے کہ غلط رپورٹ دینے پر نارنکاری نامی تشخیصی لیب کو سیل کردیاگیاہے۔اس سلسلے میںڈپٹی کمشنرراجوری کی ہدایت پر تحصیلدارراجوری سلام دین کی سربراہی میں ایک ٹیم نے نارنکاری تشخیصی لیب پرچھاپہ مارکرتمام ریکارڈ ضبط کرلیا۔تحصیلدار راجوری نے کہاکہ لوگوں کی طرف سے شکایات موصول ہورہی تھیں کہ' نارنکاری ڈائگنوزٹک لیب 'سے کرائے جانے والے اکثر ٹیسٹ غلط نکل رہے ہیں جومریضوں میں تشویش کاباعث اورعلاقے میں پریشانی کی وجہ بناہواہے۔ انہوں نے بتایاکہ اسپتال انتظامیہ کایہ کہناہے کہ ڈینگوکاکوئی بھی مریض راجوری میں نہیں تاہم نارنکاری لیب سے کئے گئے ٹیسٹ میں کئی افراد کوڈینگوکامریض بتایاگیاہے اور جموں یاپھردیگر مقامات پرلئے گئے ٹیسٹ میں اس کے برعکس رپوٹ آئی ہیں ۔
ڈینگو کی تشخیص کے آلا ت ہی ناکارہ
سمت بھارگو
راجوری //ایسے وقت میں جب راجوری میں ڈینگو کے پھیل جانے کی افواہیں سرگرم ہیں اور حکومت و محکمہ صحت یہ دعوے کررہاہے کہ انہوںنے مرض سے نمٹنے کیلئے ہر قسم کی تیاریاں کررکھی ہیں ، ضلع ہسپتال راجوری میں ڈینگو کی تشخیص کرنے والے آلات پچھلے کئی برسوںسے ناکارہ پڑے ہوئے ہیں ۔محکمہ صحت کے ذرائع نے کشمیرعظمیٰ کو بتایاکہ ELISAریڈر مشین اگرچہ ضلع ہسپتال میں نصب کی گئی ہے تاہم وہ کئی برسوںسے ناکارہ پڑی ہوئی ہے ۔ذرائع کاکہناہے کہ ELISAٹیسٹنگ کی سہولت صرف میڈیکل کالج و ہسپتال جموں میں ہی ہے ،اگرچہ مقامی حکام کی طرف سے کئی مرتبہ یہ گزارشات کی گئیں کہ ELISAکٹس راجوری ہسپتال میں بھی بھیجی جائیں تاکہ ELISAریڈر کو کارگر بنایاجاسکے لیکن اعلیٰ حکام نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی ۔ذرائع نے بتایاکہ اگر کسی کو ڈینگو ہوجاتاہے تواس کے پاس صرف واحدحل یہی ہے کہ وہ تشخیص کیلئے جموں جائے ۔دریں اثناء میڈیکل سپرینڈنٹ راجوری ہسپتال نے اپنے سرکاری بیان میںکہاہے کہ انہوںنے ELISAکٹس کی سپلائی کے بارے میں سٹیٹ ملاریالوجسٹ سے استدعا کی ہے تاکہ ڈینگو پر ابتدائی ٹیسٹ لئے جاسکیں ۔انہوںنے بتایاکہ امید ہے کہ پیر تک ELISAکٹس دستیاب ہوجائیںگی جس کے بعد ELISAریڈر کو کارگر بنایاجائے گااوراس کے ساتھ ہی ELISAٹیسٹ کئے جائیںگے ۔انہوںنے کہاکہ اس حوالے سے ایک علیحدہ وارڈ بھی قائم کیاگیاہے ۔
محکمہ صحت گہری نیند میں
ضلع انتظامیہ نے کارروائی کی
سمت بھارگو
راجوری //راجوری میں ڈینگو کی افواہ پھیل جانے کے بعد بھی محکمہ صحت کوئی کارروائی کرنے میں ناکام رہاجس کے بعد ضلع انتظامیہ کو مداخلت کرناپڑی اور لوگوں کا اعتماد بحال کیاجاسکے ۔محکمہ صحت کے ذرائع نے بتایاکہ اس بات کی افواہیں پھیل جانے کے باوجود کہ راجوری میں ڈینگو کا مرض پھیل رہاہے ، محکمہ نے کوئی خاص توجہ نہیں دی اور محکمہ لوگوں میں پائے جارہے خوف کو ختم کرنے میں ناکام رہا۔ذرائع کاکہناہے کہ محکمہ نے لوگوں کے نام کوئی ایڈوائزری بھی جاری نہیں کی تاکہ خوف کی فضا کو کم کیاجاسکے۔تاہم اس دوران ضلع انتظامیہ نے معاملے کی شدت کو سمجھتے ہوئے مداخلت کی اور اس نجی تشخیصی لیبارٹری کو سیل کیاجس پر غلط رپورٹیں دینے کا الزام ہے جس کے بعد راجوری میں افواہ بازی کا سلسلہ ختم ہوا اور لوگو ں میں مزید خوف وڈرنہیں پھیلا ۔تاہم ذرائع کاکہناہے کہ ابھی بھی کچھ لوگوں میں خوف کی فضا برقرار ہے جس کو ختم کرنے کیلئے حکام کو فوری طور پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔