اننت ناگ //نورآباد کولگام میں اس وقت صف ماتم بچھ گئی جب ایک نوجوان نے والد کی تنخواہ بند ہونے کے سبب خودکشی کر لی ۔ شعیب بشیر ولد بشیر احمد میر ساکنہ اویل نور آباد نے زہریلی شئے کھانے سے قبل اپنے فون پر ایک ویڈیو ریکارڈ کیا جس میں وہ خودکشی کرنے کی وجہ ڈھائی برسوں سے والد کی تنخواہ بند ہونے کو بتارہے ہیں ۔ ویڈیو میں نوجوان کاکہنا تھا کہ عرصہ دراز سے اس کے والد کی تنخواہ بند ہونے کے سبب وہ انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ویڈیو میں وہ مزید کہہ رہا ہے کہ شاید اس کے اس اقدام سے والد سمیت دیگر اساتذہ ،جن کی تنخواہیں بند ہیں ، کا مسئلہ حل ہو سکے گا ۔نوجوان اپنے ویڈیو پیغام میں والدین سے اپیل کررہا ہے کہ وہ اس اقدام پر صبر کریں جس طرح وہ ماضی میں کرتے آرہے ہیں ۔بی ٹیک طالب علم شعیب بشیرنے گذشتہ روز زہریلی شئے کھائی تھی جس کے بعد اسے ایس ایم ایچ ایس اسپتال منتقل کیا گیا جہاں جمعہ کی شام کو وہ فوت ہوگیا۔مہلوک کا والد گذشتہ 15 سال سے محکمہ تعلیم میں کام کر رہا ہے اور ویری فیکشن کے سلسلے میں اس کی تنخواہ ڈھائی برسوں سے بند پڑی ہے۔نوجوان کی موت کی خبر پھیلتے ہی آبائی علاقہ میں صف ماتم بچھ گئی ۔پولیس نے معاملے کی نسبت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔کولگام ٹیچرز فورم کے صدر شیخ انتخاب نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے اساتذہ کی رکی پڑی تنخواہیں فی الفور واگزار کرنے کی اپیل کی۔کشمیر عظمی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی برسوں سے ضلع میں قریبا 100اساتذہ کی تنخواہیں دفتری معاملات کے باعث بند پڑی ہیں جس سے انکے اہل خانہ فاقہ کشی پر مجبور ہو رہے ہیں۔ انہوں نے ایل جی انتظامیہ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔