اوشین شوکت
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں تعلیم کو کامیابی کی کنجی کہا جاتا ہے۔ بچپن سے ہمیں یہی سکھایا جاتا ہے کہ محنت کرو، پڑھو، ڈگری حاصل کرو اور پھر ایک روشن مستقبل تمہارا انتظار کر رہا ہوگا۔ والدین اپنی پوری زندگی کی کمائی بچوں کی تعلیم پر لگا دیتے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ ایک دن وہ کامیاب ہوں گے، اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے اور خاندان کا سہارا بنیں گے۔ لیکن آج کا کڑوا سچ کچھ اور ہی کہانی سناتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ایسے نوجوان موجود ہیں جن کے پاس ڈگریاں تو ہیں، مگر نوکری نہیں۔ اُن کے ہاتھ میں سرٹیفکیٹ تو ہے، مگر مواقع نہیں۔ ان کے خواب بڑے ہیں، مگر راستے بند نظر آتے ہیں۔ ایک نوجوان جب اپنی تعلیم مکمل کرتا ہے تو اس کی آنکھوں میں امید ہوتی ہے، دل میں جوش ہوتا ہے اور ذہن میں مستقبل کے حسین خواب۔ وہ سوچتا ہے کہ اب اس کی محنت رنگ لائے گی۔ مگر جیسے ہی وہ عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے، اسے ایک ایسی حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اس کے خوابوں کو دھیرے دھیرے توڑ دیتی ہے۔ ہر جگہ ایک ہی سوال پوچھا جاتا ہ ہے۔’’تجربہ ہے؟‘‘ اور جب وہ کہتا ہے ’’نہیں‘‘، تو دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا چکر بن چکا ہے جس میں نوجوان پھنس کر رہ جاتے ہیں۔نوکری کے لیے تجربہ چاہیے اور تجربے کے لیے نوکری۔ اس کے ساتھ ساتھ سفارش اور رشوت کا زہر بھی اس مسئلے کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔ کئی جگہوں پر قابلیت سے زیادہ تعلقات کو اہمیت دی جاتی
ہے۔ جس کے پاس’’سفارش‘‘ ہو، اس کے لیے راستے آسان ہو جاتے ہیں اور جو صرف اپنی محنت پر بھروسہ کرتا ہے، وہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ یہ ناانصافی نہ صرف ایک فرد کو متاثر کرتی ہے بلکہ پورے معاشرے کو کمزور کرتی ہے۔ تعلیم یافتہ بے روزگاری صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ذہنی اور جذباتی بحران بھی ہے۔ جب ایک نوجوان بار بار ناکامی کا سامنا کرتا ہے، اس کی خود اعتمادی ٹوٹنے لگتی ہے۔ وہ خود کو بے کار اور ناکام سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ قصور اس کا نہیں بلکہ نظام کا ہوتا ہے۔ گھر والوں کی امیدیں، معاشرے کے دباؤ اور مستقبل کی فکر یہ سب مل کر ایک ایسا بوجھ بن جاتے ہیں ،جسے اٹھانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ کئی نوجوان ڈپریشن اور مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں، کچھ اپنے خواب چھوڑ دیتے ہیں اور کچھ غلط راستوں کی طرف بھی چلے جاتے ہیں۔ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کیا ہماری تعلیمی نظام میں کوئی کمی ہے؟ کیا ہم صرف کتابی علم دے رہے ہیں اور عملی زندگی کے لیے تیار نہیں کر رہے؟ کیا ہم نوجوانوں کو ہنر سکھانے کے بجائے صرف ڈگریاں دے رہے ہیں؟ یہ سوالات نہایت اہم ہیں اور ان کے جواب تلاش کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف ڈگری کافی نہیں۔ہمیں ایک ایسا نظام چاہیے جو تعلیم کے ساتھ ساتھ مہارت، تربیت اور مواقع بھی فراہم کرے۔ جہاں ہر نوجوان کو اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع ملے، نہ کہ اسے صرف اس لیے نظر انداز کر دیا جائے کہ اس کے پاس سفارش نہیں۔ حکومت، ادارے اور معاشرہ ۔سب کو مل کر اس مسئلے کا حل نکالنا ہوگا۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہوں گے، میرٹ کو فروغ دینا ہوگا اور کرپشن کے خلاف سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں خود بھی بدلنا ہوگا۔ ہمیں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی، ان کی محنت کی قدر کرنی ہوگی اور انہیں یہ احساس دلانا ہوگا کہ وہ بے کار نہیں بلکہ ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ کیونکہ ایک تعلیم یافتہ نوجوان صرف ایک فرد نہیں ہوتا، بلکہ ایک قوم کا مستقبل ہوتا ہے۔ آج ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر ہم نے اپنے نوجوانوں کو مواقع نہ دیے تو ہم اپنی ترقی کا راستہ خود روک رہے ہیں۔ آئیں ایک ایسا معاشرہ بنائیں جہاں ڈگری صرف کاغذ کا ٹکڑا نہ ہو بلکہ کامیابی کی حقیقی پہچان بنے، جہاں ہر محنت کرنے والے کو اس کا حق ملے اور جہاں کسی نوجوان کو یہ نہ کہنا پڑے۔ ’’میرے پاس ڈگری تو ہے،مگر روزگار نہیں!‘‘جاگو! نوجوانوں کو موقع دو، کیونکہ انہی میں قوم کا کل چھپا ہے۔