ایجنسیز
کوپن ہیگن//ڈنمارک میں منگل کو ہونے والے عام انتخابات غیر فیصلہ کن ثابت ہوئے، جس کے بعد وزیراعظم میٹے فریڈرکسن کے سیاسی مستقبل پر غیر یقینی کے سائے منڈلانے لگے ہیں۔سرکاری نتائج کے مطابق فریڈرکسن کی قیادت میں مرکزِ بائیں بازو کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کو 2022 کے مقابلے میں کم نشستیں حاصل ہوئیں، جبکہ ان کی اتحادی جماعتیں بھی اپنی پوزیشن برقرار نہ رکھ سکیں۔پارلیمنٹ میں نہ بائیں بازو اور نہ ہی دائیں بازو کے اتحاد کو اکثریت حاصل ہو سکی، جس کے باعث سابق وزیرِاعظم اور موجودہ وزیرِخارجہ لارس لوکے راسموسن ایک اہم کنگ میکر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان کی سنٹرل جماعت موڈریٹ پارٹی کے 179 رکنی پارلیمنٹ میں 14 ارکان ہیں، جو یہ طے کرنے کی پوزیشن میں ہیں کہ آیا فریڈرکسن تیسری بار وزیرِاعظم بن سکیں گی یا نہیں۔میٹے فریڈرکسن نے کہا ہے کہ وہ وزارتِ عظمیٰ برقرار رکھنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، ڈنمارک کو ایک مستحکم اور قابل حکومت کی ضرورت ہے اور ہم قیادت کے لیے تیار ہیں۔دوسری جانب لارس لوکے راسموسن نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات کم کریں اور قومی مفاد میں مل کر حکومت سازی کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں تقسیم کے بجائے اتحاد کی ضرورت ہے۔تاہم وزیرِ دفاع ٹرولز لْنڈ پاؤلسن اور ان کی لبرل پارٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ سوشل ڈیموکریٹس کے ساتھ دوبارہ حکومت میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے۔نتائج کے مطابق سوشل ڈیموکریٹس بدستور سب سے بڑی جماعت رہی، لیکن انہیں صرف 21.9 فیصد ووٹ ملے، جو 2022 کے 27.5 فیصد کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔انتخابی مہم میں مہنگائی، پنشن اور ممکنہ ویلتھ ٹیکس جیسے داخلی مسائل نمایاں رہے، جبکہ گرین لینڈ کے معاملے پر امریکا کے ساتھ کشیدگی زیادہ اہم موضوع نہ بن سکی۔یاد رہے کہ ڈنمارک میں متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت اکثر مخلوط حکومتیں بنتی ہیں، جن کے لیے مختلف جماعتوں کے درمیان طویل مذاکرات ضروری ہوتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں بھی آئندہ حکومت کے قیام کے لیے سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔