راجوری// ڈرون سے مشابہہ فضائی اشیاءکو دیکھنے کے متعدد واقعات نے سیکورٹی فورسز اور ایجنسیوں کو چوکس کردیا ہے جس کے بعد جڑواں اضلاع راجوری اور پونچھ میں 'ڈرون الرٹ' کے نام سے ایک تازہ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔پونچھ کے مینڈھر سب ڈویژن میں لائن آف کنٹرول کے قریب واقع علاقوں میں مشتبہ ڈرون جیسے فضائی اشیاءکو دیکھنے کے متعدد واقعات کے بعد یہ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ایل او سی علاقے کے قریب اس طرح کی چیز کو اڑتے ہوئے دیکھے جانے کے بعد تین دن قبل مشتبہ ہوائی شے کے پائے جانے کا پہلا واقعہ رپورٹ ہوا تھا۔سرکاری ذرائع نے بتایا"مشکوک چیز کو بہت کم لوگوں نے دیکھا جس میں سیکورٹی فورس کے اہلکار بھی شامل تھے جس سے اس کی صداقت کو تقویت بخشی "۔تاہم انہوں نے مزید کہا کہ جمعہ کی شام کو مینڈھر کے دیہاتوں سے بھی ایسا ہی ایک منظر سامنے آیا تھا اور اب یہ تقریباً ثابت ہو گیا ہے کہ مینڈھر کے دیہاتوں پر ایک ڈرون پرواز کر رہا تھا۔سرکاری ذرائع نے بتایا"جمعہ کی شام، جب شام ساڑھے چھ بجے کے قریب گاو¿ں کے کچھ لوگ اپنے معمول کے کام میں مصروف تھے، تو ایک ڈرون جیسی چیز علاقے میں گھومتی ہوئی دیکھی گئی اور مینڈھر کے بالاکوٹ سیکٹر میں ایل او سی کے قریب سوئیان، لانجیوٹ، دھرگلون اور دیگر گاو¿ں کے لوگوں نے اس کودیکھا“۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹمٹماتی روشنیوں والی چیز سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک فضائی چیز تھی اور ممکنہ طور پر ڈرون تھی۔سرکاری ذرائع نے بتایا"فوج اور پولیس نے ہوائی چیز کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے فوراً بعد مینڈھر کے ان دیہاتوں میں بڑے پیمانے پر تلاشی شروع کی" ۔انہوں نے مزید کہا کہ لائن آف کنٹرول کے قریب علاقوں میں ڈرون دیکھنے کے ان متعدد واقعات کے بعد ایک تازہ الرٹ جاری کیا گیا ہے جسے عام طور پر 'ڈرون الرٹ' کہا جاتا ہے جس میں تمام سیکورٹی تنصیبات اور کیمپوں کو ہائی الرٹ رہنے کو کہا گیا ہے اور ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے کسی بھی جموں ٹیکنیکل ہوائی اڈے جیسے حملہ کو ناکام بنانے کے لیے سخت فضائی نگرانی کو برقرار رکھنے کو کہاگیا ہے“۔سرکاری ذرائع نے مزید کہا"اس طرح کی فضائی اشیاءکے استعمال کی متعدد وجوہات ہیں اور ان میں ہتھیاروں اور گولہ بارود کی کھیپ کو چھوڑنا، فضائی نگرانی، فضائی گاڑیوں کی طرف فوجیوں کی چوکسی کی سطح کی جانچ کرنا شامل ہے" ۔سرکاری ذرائع نے مزید کہا کہ ڈرون کے ذریعے ہتھیاروں کا گرانا اب کوئی نئی بات نہیں ہے اور کسی بھی علاقے میں ایسا کیا جا سکتاہے۔ان کا مزید کہناتھا"ان متعدد واقعات کے بعد تمام فیلڈ ایجنسیاں اور زمینی دستے ہائی الرٹ پر ہیں اور سیکورٹی ایجنسیاں اور فورسز چوکسی پرہیں" ۔