سرنکوٹ// سب سنٹر چندی مڑھ میںطبی عملے کی قلت اور دیگر مسائل پر مقامی لوگوں نے شدید احتجاج کیاگیا جس دوران مغل شاہراہ پر دو گھنٹے تک گاڑیوں کی آمدورفت بند رہی ۔اس موقعہ پر مظاہرین نے ضلع انتظامیہ اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے کہاکہ ان کے مسائل میں روز بروز اضافہ ہی ہوتاجارہاہے اور حکام کو ٹس سے مس نہیں ۔ احتجاج میں ڈوگراں اورپشانہ کے لوگوں نے بھی شرکت کی ۔انہوںنے کہاکہ انتظامیہ ناکام ہوچکی ہے اور ان کے مسائل حل نہیں کئے جارہے ۔مظاہرین کاکہناتھاکہ پی ایچ سی چندی مڑھ میںڈاکٹر تعینات نہیں جس کی وجہ سے انہیں بیمار لوگوں کو کبھی سرنکوٹ تو کبھی پونچھ لیجاناپڑتاہے ۔ انہوںنے کہاکہ فوری طور پر ڈاکٹروں کی تعیناتی عمل میں لائی جائے اور ان کے دیگر مسائل بھی حل کئے جائیں ۔ان کاکہناتھاکہ علاقے میں آدھار کارڈ اور راشن کارڈ نہیں بن رہے اور لوگ دربدر گھوم رہے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ خاص طور پر آدھار کارڈ نہ بن پانے کی وجہ سے کئی لوگ تنخواہیں اور پنشن بھی نہیں لے پارہے ۔انہوںنے کہاکہ یہاں بجلی کا بھی بحران پایاجارہاہے اور محکمہ اپنی مرضی سے سپلائی کرتااور بجلی کاٹتاہے ۔ انہوںنے کہاکہ بجلی کا نظام ہی خراب ہے ۔انہوںنے مزید کہاکہ پانی بھی سپلائی نہیں کیاجارہا۔احتجاج کی خبر ملتے ہی ایس ڈی پی او سرنکوٹ اصغر علی ملک نے موقعہ پر پہنچ کر لوگوں سے بات چیت کی اور انہیں یقین دلایاکہ ان کے مطالبات اعلیٰ حکام سے پورے کرائے جائیںگے جس پر انہوںنے احتجاج ختم کیا اور سڑک پر گاڑیوں کی آمدورفت بحال ہوئی ۔لوگوں کے اس احتجاج کی وجہ سے مغل شاہراہ پرسفر کرنے والے مسافروں کو دو گھنٹے ایک ہی جگہ رکناپڑا ۔ڈاکٹروں کی قلت پر جب بلاک ڈیولپمنٹ افسر سرنکوٹ ڈاکٹر پرویز احمد خان سے بات ہوئی تو انہوںنے کہاکہ انہوںنے گزشتہ روز ہی انہوںنے اس طبی سنٹر کیلئے ڈاکٹروں کی تعیناتی کی خاطر حکام سے سفارش کی ہے اور امید ہے کہ بہت جلد یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔ انہوںنے کہاکہ جیسے ہی حکام کی طرف سے کوئی فیصلہ لیاجائے گا وہ ضرورت کے مطابق ہر جگہ ڈاکٹر تعینات کردیںگے ۔