سمت بھارگو
راجوری//ضلع پونچھ کے سب ڈویژن مینڈھر سے تعلق رکھنے والی قبائلی بیٹی ڈاکٹر کوہِ صفا نے یونین پبلک سروس کمیشن کے سول سروسز امتحان میں کامیابی حاصل کر کے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ ایک ڈاکٹر ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے دیرینہ خواب کو حقیقت میں بدلتے ہوئے سول سروسز میں نمایاں کامیابی حاصل کی، جس پر پورے خطے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ڈاکٹر کوہِ صفا پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اور انہوں نے طبی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی سول سروسز کے اپنے خواب کو زندہ رکھا۔ ان کا تعلق پونچھ ضلع کے مینڈھر سب ڈویژن سے ہے۔
ان کے والد محمود چودھری پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہیں اور اس وقت شوپیان میں تعینات ہیں، جبکہ ان کی والدہ بھی ایک ڈاکٹر ہیں اور اس وقت جموں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ڈاکٹر کوہِ صفا نے اپنی ابتدائی تعلیم جموں کے نجی تعلیمی اداروں سے حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے ایم بی بی ایس کے امتحان میں کامیابی حاصل کی اور میڈیکل سائنسز میں اپنی تعلیم مکمل کر کے بطور ڈاکٹر اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ڈاکٹر کوہِ صفا کے مطابق انہیں اسکول کے زمانے سے ہی سول سروسز میں جانے کا شوق اور جذبہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے اپنے اسی خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لئے سول سروسز امتحان کی تیاری شروع کی۔ انہوں نے زیادہ تر تیاری گھر پر ہی رہ کر کی اور مسلسل محنت اور عزم کے ساتھ اپنے مقصد کو حاصل کیا۔انہوں نے اپنی کامیابی کا سہرا اپنے والدین اور خاندان کی مکمل حمایت کو دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد، والدہ اور دو بہن بھائی ہر قدم پر ان کے ساتھ کھڑے رہے اور ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی نے انہیں کامیابی کی منزل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ڈاکٹر کوہِ صفا کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے پونچھ اور جموں و کشمیر کے لئے باعث فخر سمجھی جا رہی ہے اور ان کی کامیابی علاقے کے نوجوانوں خصوصاً طالبات کے لیے ایک بڑی تحریک بن کر سامنے آئی ہے۔