واشنگٹن // چین کے عسکری اور معاشی اثرو روسوخ روکنے کی کوشش کے لیے امریکا،بھارت، جاپان اور آسٹریلیا سربراہان کا ورچوئل اجلاس ہوا ہے۔ آن لائن سربراہ کانفرنس میں امریکی صدر جوبائیڈن، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی، آسٹریلوی وزیر اعظم اسکاٹ موریسن اور جاپانی وزیر اعظم یوشی ہائیڈ سوگا نے علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کے علاوہ باہمی تعاون بڑھانے پر غور کیا۔ان 4 ملکوں کے درمیان بحرالکاہل کی نگرانی کے لیے فوجی تعاون 2007 ء سے جاری ہے اور 2009 ء میں اقتدار سنبھالتے ہی سابق صدر اوبامانے اسے مضبوط بنانے کے لیے قائدانہ کردار ادا کیا۔ اس وقت کے نائب صدرجوبائیڈن اور موجودہ وزیرخارجہ و مشیر قومی سلامتی سمیت بائیڈن ٹیم کے کلیدی ارکان اس 4طرفہ دفاعی مکالمے المعروف کواڈ کے معمار سمجھے جاتے ہیں۔بظاہراس تعاون کا مقصد بحرالکاہل، خلیج بنگال اور بحر ہند میں بلاروک ٹوک آزادانہ تجارت کو یقینی بنانا ہے چنانچہ علاقائی اہمیت کے پیشِ نظر اسے ہند بحرالکاہل کواڈبھی کہتے ہیںلیکن ہیں کواڈکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ، یعنی کواڈ کا تزویراتی (Strategic)ہدف بحرالکاہل خاص طور سے بحر جنوبی چین میں چینی بحریہ کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو غیر موثر کرنا ہے۔ اسی بناپر سیاسیات کے علما کواڈ کو ایشیائی نیٹوکہتے ہیں۔عسکری صلاحیتوں کی جانچ پڑتال کے لیے کواڈ ممالک وقتاً فوقتاً بحری مشقیں کرتے ہیں۔ اس نوعیت کی پہلی مشق 1992ء میں بھارت کے جنوب مشرقی ساحل پر کی گئی جس میں بھارت اور امریکا کی بحریہ نے حصہ لیا۔ اس مناسبت سے اسے مالابار بحری مشق پکارا گیا۔ بعد میں اس سرگرمی کا نام ہی مالابار مشق پڑگیا۔اب تک اس نوعیت کی 24 مشقیں ہوچکی۔