تھنہ منڈی // تھنہ منڈی کے علاقہ شاہدرہ شریف سے تعلق رکھنے والی دو بچیاں بجلی کرنٹ لگنے سے زندگی بھر کیلئے معذور ہوچکی ہیں اور محکمہ بجلی کی طرف سے کسی بھی قسم کی معاونت نہ ملنے کے بعد وہ اب اپنی نابینا والدہ کے ہمراہ بھیک مانگنے پر مجبور ہیں ۔رواں برس فروری کی8 تاریخ کوچھٹی جماعت کی دو طالبات جو گرلز مڈل اسکول شاہدرہ میں زیر تعلیم ہیں،بجلی کی تار کی زد میں آکر بری طرح سے جھلس گئیں ۔یہ دونوں گھر کے نزدیک بکریا ں چرانے کے لئے گئی ہوئی تھیں جہاں پر محکمہ بجلی کی تار جو زمین سے چند فٹ کی دوری پر لٹک رہی تھی،نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔واقعہ یوں ہواکہ جبین کوثر دختر محمد شریف عمر 12 سال نے تار کی جانب بڑھ رہی ایک بکری کو واپس موڑنے کی کوشش کی جس دوران بجلی کے کرنٹ نے اسی کو پکڑ لیا، اتنے میں اسکی دوسری بہن شہناز اختر عمر 13 سال جبین کو بچانے کی کوشش میں تارسے لٹک گئی۔ اس حادثے کو دیکھتے ہوئے چند راہگیر دوڑ کر وہاں پہنچے جنہوں بجلی کی تار کاٹ کر ان دونوں کمسن بچیوں کو مضروب حالت میں تھنہ منڈی کے سرکاری ہسپتال پہنچایا جہاں ڈاکٹروں نے ابتدائی طبی امدا ددینے کے بعد انہیںنازک حالت میںضلع ہسپتال راجوری منتقل کردیا۔ ان کمسن بچیوں کا والد محمد شریف ایک غریب شخص ہے جس کے پاس زمین بھی نہیں اور رہنے کیلئے صرف ایک ٹوٹا ہواکمرہ ہے جبکہ ان کی والدہ آنکھوںسے نابیناہے ۔اس واقعہ کو آج چھ ماہ ہوچکے ہیں لیکن محکمہ بجلی کی طرف سے ان بچیوں کو معاونت کے نام پر پھوٹی کوڑی بھی نہیں دی گئی ۔گردونواح کے لوگوں نے چندہ کرکے کسی طرح سے ان کا علاج تو کرالیالیکن وہ اب زندگی بھر کیلئے معذوربن گئی ہیں۔جبین کوثر دائیں ہاتھ سے معذور ہو چکی ہے جبکہ شہناز اختر بھی بجلی کرنٹ سے کام کاج کے قابل نہ رہی ہے۔ ستم ضریفی یہ ہے کہ محکمہ بجلی کو اپنی لاپرواہی اور غفلت پر ندامت تک نہ ہوئی اور آج تک ان بچیوں کو کچھ بھی امدا د نہیں دی گئی ۔مجبوراًیہ بچیاں اپنی نابینا والدہ کے ہمراہ بھیک مانگنے پر مجبور ہیں اوران کا گزر بسر اب اسی سے چلتاہے ۔ انہوں نے خاتون وزیر اعلیٰ سے پرزور اپیل کی کہ وہ ان بچیوں کی تعلیم کابندوبست کریں اور محکمہ بجلی سے پوری پوری معاونت دلائی جائے ۔