مشرف شمسی
پیپر لیک کا معاملہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے ۔یہ معاملہ پورے ملک میں سالہا سال سے چلتا آ رہا ہے اور اس معاملے میں اب تک سنجیدگی سے جانچ نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی
اس معاملے میں ملوث کسی بڑے گروہ کے خلاف کسی کاروائی ہونے کی کوئی اطلاع ملی ہے ۔آخر پیپر لیک ہوتا کیوں ہے؟ اور اس پیپر لیک سے سماج کے کس حصے کو فائدہ اور کس کو نقصان پہنچ رہا ہے ؟پیپر لیک کالج یا یونیورسٹی کے امتحانات میں ہوتے ہوں یا انجنئرنگ یا میڈیکل ٹیسٹ میں ، یا پھر نوکری کے امتحانات میں ہوتے ہوں ،ان میں غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ہے۔اول توان کے پاس امتحانات میں آنے والے سوال کو خریدنے کی قوت ہوتی ہی نہیں،دوم وہ ہر وقت اپنی محنت وصلاحیت کے باوصف صاف و شفاف اور بر وقت امتحانات کے متمنی ہوتے ہیں۔ جبکہ پیسے والے اپنے کم صلاحیت امیر زادوںکو کسی بھی طرح آگے بڑھانے کے کچھ بھی کرلیتے ہیںاورسوالات یا امتحانات کے پیپرخریدنے یا لیک کرانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ یو پی ایس سی کے امتحانات کو چھوڑ کر تقریباً سبھی امتحانات کے پیپرز کا لیک ہونا معمول کی بات بن گئی ہے ۔بلا شبہ پوری دنیا میں امیر اور غریب سماج کے دو طبقے ہوتے ہیں اور ان دو طبقوں میں آپسی جدّو جہد ہر وقت اس سنسار میں چلتی رہتی ہے ۔چنانچہ ہمارے ملک میں بھی یہ جدّو جہد ملکی وسائل پر قبضے کے لئےبرسوں سے چلی آرہی ہے۔مگر ہمارے ملک میں امیر اور غریب، ذات میں تقسیم ہے۔اسلئے پیپر لیک کرنے والے گروہ اور پیپر لیک سے سوالات حاصل کرنے والوں کا زیادہ تر تعلق امیر ،اونچی ذات یا طبقے سے ہوتا ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ جیسے ملک میں یہ ایک روٹین کا معاملہ بن گیا ہے ۔اگرچہ بعض پیپر لیک معاملے کا پتہ چل جاتا ہے لیکن اکثر کا پتہ نہیں چل پاتاہے۔اگر ہر ایک امتحان کا منصفانہ جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ امتحان شروع ہونے سے محض ایک ڈیڑھ گھنٹہ قبل پیپر لیک کا معاملہ ضرور سامنے آتا ہے ۔گویاپیپر لیک معاملہ ایک بڑا ریکٹ ہے،جس کے ساتھ بڑے پیمانےپر پیسہ جڑا ہوا ہے اور اس ریکٹ سے کوئی بھی سرکار ٹکرانا نہیں چاہتی ہے ،کیونکہ نہ صرف سیاسی جماعتوںبلکہ سرکار وںمیں موجود کچھ سیاست کار ، وزیر اور اعلیٰ عہدیداروں کے نام پیپر لیک معاملے میں آتے رہے ہیںمگرہمیشہ دَب کر ہی رہ جاتے ہیں۔کیونکہ سرکاروں کے تقریباً سبھی اہم عہدے پرامیر، اونچی ذات یا طبقے کی اجارادری ہمیشہ برقرار رہتی ہے،اس لئے جو جانچ کمیٹیاں بنتی ہیں، اُن میں بھی زیادہ تر لوگ اُنہی طبقوںسےمنسلک ہوتے ہیں،ایسے میںیہ ریکٹ ختم نہیں ہوپاتے۔ شائدسیاسی جماعتوں کے رہنماء اس بات سے ناواقف نہیں ہوں گےتو جہاں اُنکی حکومت ہے ،وہاں پیپر لیک گروہ کو آہنی ہاتھوں سے کچلنے کی کوشش کیوں نہیں ہوتی ؟موجودہ سرکاریں پہلے ہی تعلیم کو اتنا مہنگا کر چکی ہیں کہ غریب اور متوسط لوگوں کے لئے تعلیم کی حصولیابی مشکل ہوتی جا رہی ہے ۔ایسے میں پیپر لیک کو روکا نہیں گیا تو غریب اور نچلے طبقے کے لوگوں کے لئے انجینئر،ڈاکٹر اور سرکاری نوکر بننا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوگا۔ اسلئے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے ذی شعور رہنمائوں کواس معاملے میں کافی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور پیپر لیک معاملے کو اولین ترجیح میں شامل کرنا ہوگا۔تاکہ غریب اور متوسط طبقے کے بچوں کی محنت ، پیسے اوراُن کے حق کوکسی حدتک تحفظ مل سکے۔
(رابطہ۔ 9322674787)
<[email protected]>