جموں //پیلٹ پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سی پی آئی ایم لیڈر وممبر اسمبلی کولگام نے کہا کہ جس کے ہاتھ میں پیلٹ بندوق دی گئی ہے وہ یہ نہیں دیکھتا ہے کہ آنکھیں کہاں ہیں اور جسم کے دوسرے نازک حصہ کہاں ہیں ۔انہوں نے ریاست سے افپسا کو ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا ۔قانون ساز اسمبلی وزیر اعلیٰ کے ماتحت محکموں کے مطالبات زر پر بحث کے دوران یوسف تاریگامی نے کہا کہ لوگوں میں اعتماد پیدا کرنے کی ضرورت پر باتیں کی جاتی ہیں لیکن اُس کیلئے کوششیں نہیں کی جاتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر کے مستقبل کے بارے میں سب جماعتوں کو سیاست سے بالا تر ہو کر ایک ساتھ ہونا چاہئے ۔تاریگامی نے کہا کہ پچھلے 25برسوں سے ہم نے تشدد مار دھاڑ کے سوا کچھ نہیں دیکھا ۔انہوں نے کہا آج تک صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے سرکار کے پاس کوئی بھی پالیسی نہیں رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنچایتی انتخابات کرانے کی باتیں کی جا رہی ہیں اُس کیلئے حالات سازگار ہیں یا نہیں یہ حکومت کو معلوم ہو گا ۔پیلٹ گن پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے یوسف تاریگامی نے کہا کہ جس کے ہاتھ میں پیلٹ گن دی گئی ہے وہ کیا دیکھے گا کہ آنکھیں کہاں ہے جسم کے نازک حصہ کہاں ،انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بہت سارے لوگ پہلے بھی گولیوں سے مرے ہیں لیکن کشمیر میں سب سے زیادہ اگر کوئی چیز زیادہ بدنام بن چکی ہے وہ پیلٹ گن ہے جس کو بند کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے ریاستی وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ وہ اس کا جائزہ ٹھنڈے دماغ سے لیں اور یہ یقین دہانی کرائیں کہ آئندہ اُس کا استعمال نہیں ہو گا ۔تاریگامی نے افسپا کے حوالے سے کہا کہ اُس کو فوری طور پر ہٹانے کی ضرورت ہے ،تاریگامی نے کہا انہیں نے سرکار سے یہ جواب مانگا تھا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی کتنی شکایات مرکز کو بھیجی گئی ہیں سرکار نے جواب دیا ہے کہ 50ایک پر بھی اگر کارروائی نہیں ہوئی ہے تو پھروزیر داخلہ آپ کی تجوویز پر غور نہیں کرتے تو پھر نئے آیف آئی ار درج کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ افسپا کو منسوح کیا جائے ۔