جموں //پی ڈی پی کے ممبر قانون ساز کونسل فردوس احمد ٹاک پر راشٹریہ بجرنگ دل کارکنان نے حملہ کیا جس میں وہ بال بال بچے ۔اس دوران بجرنگ دل کے درجنوں کارکنان کو حراست میں بھی لیاگیاہے۔فردوس ٹاک ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرنے کیلئے پریس کلب آرہے تھے جس دوران پریس کلب کے باہر راکیش اور روہت بجرنگی کی قیادت میں بجرنگ دل کارکنان نے سیاہ پرچموں کے ساتھ ان پر حملہ کردیا اور انہیں 15منٹ سے بھی زائد وقت تک کیلئے اپنی گاڑی کے اندر محصور رہنے پر مجبور کیاگیا۔بجرنگ دل کارکنان کی طرف سے ’فردوس ٹاک ۔ہائے ہائے اور ’گوبیک گوبیک۔ فردوس ٹاک گوبیک ‘جیسے نعرے لگائے گئے ۔اس دوران جب فردوس ٹاک گاڑی سے باہر آئے تو ان پر حملہ کیاگیا اور ان کی عوام کے سامنے مار پیٹ کرنے کی کوشش کی گئی ۔تاہم موقع پر تعینات پولیس اہلکاروں اور ایم ایل سی کے محافظوں نے مداخلت کرتے ہوئے انہیں بجرنگ دل کے کارکنان سے بچایا۔پولیس کوبجرنگ دل کے کارکنان کو منتشر کرنے کیلئے معمولی لاٹھی چارج بھی کرناپڑا۔اس واقعہ کے بعد فردوس ٹاک نے پریس کلب جموں میں پریس کانفرنس سے خطاب کرکے بتایاکہ یہ واقعہ منصوبہ بند تھا اور ان کی آواز دبانے کی کوشش کی گئی ۔ انہوں نے کہاکہ پریس کلب کے باہر پیش آیا واقعہ منصوبہ کے ساتھ انجام دیاگیا جس کامقصد ان کی آواز کو دباناتھا کیونکہ وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور جموں و کشمیر کی وحدت کی بات کرتے ہیں ۔انہوںنے کشتواڑ میں جنگجوئوں کے حملے میں بھاجپا لیڈر انیل پریہار اور ان کے بھائی کی ہلاکت کی تحقیقات میں تیزی لانے کی مانگ کرتے ہوئے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کے اس بیان پر سوال اٹھایا جس میں انہوں نے قاتلوں کی گرفتاری کا دعویٰ کیاتھا۔ ٹاک نے کہاکہ انتظامیہ کو اس معاملے کو چھپانا نہیں چاہیے اور اگر یہ دعویٰ سچ نہیں تھاتوپھر گورنر موصوف کو کس نے گمراہ کیا۔