محتشم احتشام
پونچھ//ضلع پونچھ میں سرکاری ٹھیکیداروں نے حالیہ حکم ناموں اور بقایاجات کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں بڑی تعداد میں کنٹریکٹرز نے شرکت کر کے اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کی۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ حکومت کی جانب سے مسلسل نئے نئے احکامات جاری کر کے انہیں غیر ضروری طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے، جس سے ترقیاتی کام بھی متاثر ہو رہے ہیں۔احتجاجی مظاہرے کی قیادت کرتے ہوئے ٹھیکیدار محمد اکبر دیدڑ نے کہا کہ ضلع کے ٹھیکیدار پہلے ہی جی ایس ٹی اور دیگر ٹیکسز ادا کر رہے ہیں، تاہم اب آئے روز نئے قواعد و ضوابط نافذ کر کے ان پر مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کنٹریکٹرز ضلع میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں مسلسل مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹھیکیداروں سے رائلٹی کی مد میں بھی رقم وصول کی جاتی ہے، جس کے باوجود ان کے واجبات کی بروقت ادائیگی نہیں کی جا رہی۔ ’ہم سمجھ نہیں پا رہے کہ حکومت آخر ہمارے ساتھ کیا کرنا چاہتی ہے‘، انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مالی دباؤ کے باعث کئی ٹھیکیدار شدید پریشانی سے دوچار ہیں۔محمد اکبر دیدڑ نے ایک حالیہ حکم نامے پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جس کے مطابق 25 مارچ کو ٹریجری بند کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے، جبکہ ماضی میں مالی سال کے اختتام یعنی 31 مارچ تک ٹریجری کھلی رکھی جاتی تھی۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے ٹھیکیداروں کے بقایاجات کی ادائیگی مزید تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔مظاہرین نے جموں و کشمیر کی حکومت، بالخصوص نیشنل کانفرنس کی قیادت اور ایل جی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کر کے ٹھیکیداروں کے مسائل حل کریں، بقایاجات کی ادائیگی یقینی بنائیں اور غیر ضروری حکمناموں پر نظرثانی کریں۔انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو وہ اپنے احتجاج کو مزید وسعت دینے پر مجبور ہوں گے، جس کی ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔