محتشم احتشام
پونچھ//ضلع پونچھ میں نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے مبینہ طور پر زائد اور غیر معقول داخلہ فیس وصول کرنے کے معاملات نے عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔اس سلسلے میں معروف وکیل مبین خان ایڈووکیٹ نے ضلع ترقیاتی کمشنر (DM) اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ADM) پونچھ کی توجہ اس اہم مسئلے کی جانب مبذول کرائی ہے۔اپنے مکتوب میں انہوں نے نشاندہی کی کہ متعدد نجی اسکولز فیس فکسیشن کمیٹی کے مقررہ اصولوں اور حکومتی ہدایات کے برخلاف طلبہ سے بھاری داخلہ فیس وصول کر رہے ہیں، جو نہ صرف قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ عام عوام، بالخصوص متوسط اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔
مبین خان نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے کر شفاف تحقیقات عمل میں لائے اور ذمہ دار اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم ایک بنیادی حق ہے اور اسے کاروبار کا ذریعہ بنانا معاشرتی ناانصافی کے مترادف ہے۔خط میں ایک اور اہم نکتہ بھی اجاگر کیا گیا ہے جس میں نجی، غیر امدادی اسکولوں میں کمزور اور پسماندہ طبقات کے بچوں کے لیے 25 فیصد نشستوں کی لازمی فراہمی کا ذکر کیا گیا۔انہوں نے زور دیا کہ متعلقہ قوانین کے تحت اس کو یقینی بنایا جائے تاکہ ہر بچے کو مساوی تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے ایک واضح اور باضابطہ حکم (Speaking Order) جاری کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ نہ صرف موجودہ بے ضابطگیوں کا خاتمہ ہو بلکہ مستقبل میں بھی ایسے مسائل کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔