عظمیٰ نیوزسروس
جموں//چیف سیکرٹری اتل ڈلو نے پرگتی (پرو ایکٹیو گورننس اور بروقت عمل آوری) پلیٹ فارم کے جموں و کشمیر میں اہم ترقیاتی پروجیکٹوں کی تیز رفتاری میں تبدیلی لانے والے اثرات کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ طویل عرصے سے زیرِ اِلتوأ معاملات کے حل اور بڑے منصوبوں کی بروقت عمل آوری کو یقینی بنانے کا ایک مؤثر ذریعہ بن کر اُبھرا ہے۔چیف سیکرٹری نے ایک پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے پرگتی 50@کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی پر مبنی حکومتی نظام متعدد ایسے منصوبوں کو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھا چکا ہے جو دہائیوں تک بین الاسبابی رُکاوٹوں اور عملی تاخیر کی وجہ سے رُکے ہوئے تھے۔اِس پریس کانفرنس میں کمشنر سیکرٹری اطلاعات ایم راجو، ڈائریکٹر اطلاعات نتیش راجورا، ڈائریکٹر پی آئی بی جموں نیہا جلالی، جوائنٹ ڈائریکٹر اطلاعات ہیڈکوارٹر ظہور احمد رینہ، جوائنٹ ڈائریکٹر اطلاعات جموں دیپک دوبے اور محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ (ڈِی آئی پی آر) کے دیگر سینئر اَفسران نے شرکت کی۔ڈلو نے ادھم پور ۔ سری نگر ۔ بارہمولہ ریل رابطہ (یو ایس بی آر ایل) منصوبے کو بطورایک عمدہ مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ منصوبہ 1995میں شروع کیا گیا تھا لیکن تقریباً 25برس تک اس میں بہت کم پیش رفت ہوئی ۔
تاہم ،جب اسے قریبی نگرانی کے لئے پرگتی (پی آر اے جی اے ٹی آئی ) کے تحت لینے کے بعدمحکموں کے درمیان بہتر رابطے اور خود وزیراعظم کی اعلیٰ سطح پر براہ راست مداخلت کی بدولت منصوبے نے نمایاں رفتار حاصل کی۔اُنہوں نے بتایا کہ 500کروڑ روپے سے زیادہ لاگت والے تمام منصوبوں کی نگرانی وزیر اعظم کے گروپ ( پی ایم جی) کے ذریعے کی جاتی ہے جس کی سربراہی کابینہ سیکرٹری کرتے ہیں جبکہ ان میں سب سے اہم منصوبوں کا جائزہ براہِ راست وزیرِاعظم پرگتی میٹنگوں کے ذریعے لیتے ہیں۔چیف سیکرٹری نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم جی اس وقت جموں و کشمیر میں 61منصوبوں کی نگرانی کر رہا ہے جن میں مجموعی سرمایہ کاری 4.12لاکھ کروڑ روپے سے زائد ہے اور یہ منصوبے رابطہ کاری، توانائی اور سماجی بنیادی ڈھانچے جیسے اہم شعبوں پر محیط ہیں۔ ان میں سے 69,000کروڑروپے کی لاگت کے 15منصوبے مکمل ہو چکے ہیںجبکہ باقی مختلف مراحل میں زیرِ تکمیل ہیں۔اُنہوں نے خصوصی طور پر نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کے 15بڑے منصوبے پرگتی پلیٹ فارم کے تحت وزیر اعظم کی براہِ راست نگرانی میں ہیں جس سے زمین کے حصول، مالی و طبعی رُکاوٹوں کے معاملات کے فوری حل اور متاثرہ کنبوں کو بروقت و منصفانہ معاوضے کی اَدائیگی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔اُنہوں نے اِس میکانزم کی اِفادیت کو اُجاگر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پرگتی کے سابقہ میٹنگوںمیں جموں و کشمیر سے متعلق اُٹھائے گئے 59معاملات میں سے 57معاملات پہلے ہی میرٹ پر حل کئے گئے ہیں جس سے جموںوکشمیر یوٹی کو قومی سطح پر اعلیٰ کارکردگی دِکھانے والوں میں شامل کیا گیا جس کی تائید ضلعی سطح پر مضبوط فالو اپ سے بھی ہوتی ہے۔چیف سیکر ٹری نے حاصل شدہ ٹھوس نتائج کے بارے میں کہا کہ جموںوکشمیر میں پرگتی نگرانی کے تحت تقریباً 53,000کروڑ رواپے مالیت کے چھ اعلیٰ اثر والے منصوبے مکمل کئے جا چکے ہیں۔ اِن میں اُدھم پور ۔سری نگر۔بارہمولہ ریل لنک، کشن گنگا پن ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے ساتھ اس کی ترسیلی لائن، ایمز جموں، این ایچ۔44چیلنجنگ بانہال سٹریچ اور آلسٹینگ ۔ کرگل ۔ خلتسے ۔لیہہ ٹرانسمیشن لائن شامل ہیں۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ پرگتی کے تحت زیرِ نگرانی نو اضافی منصوبے تسلی بخش رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں جن میں دہلی۔امرتسر۔کٹرا ایکسپریس وے کوریڈور، ایمز اونتی پورہ، پکل ڈل ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ،، یو ایس او ایف کے تحت 4جی موبائل کنکٹویٹی اور یو ٹی کے مختلف حصوں میں توانائی و رابطہ کاری کے دیگر منصوبے شامل ہیں۔چیف سیکرٹری نے یونین ٹیریٹری کی سطح پر پرگتی میکانزم کے ذریعے جاری کردہ ہدایات پر مکمل عملدرآمد کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ اُنہوں نے زور دیا کہ اِس پلیٹ فارم سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے جموں و کشمیر موجودہ رفتار کو برقرار رکھنے کی پوزیشن میں ہے تاکہ تمام ترقیاتی اقدامات نتیجہ خیز ہوں اور مقررہ مدت کے اندر مکمل کئے جا سکیں۔